جھارکھنڈ ميں ماؤنواز حملہ، 10 ہلاک

ہندوستان کی ریاست جھاڑ کھنڈ میں ماؤ نواز باغیوں کے ایک حملے میں دس سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس کے مطابق نکسلی باغیوں کے غلبے والے مغربی سنگھ بھوم ضلع میں سنٹرل ریزرو پولیس فورس اور مقامی پولیس کی ایک مشترکہ گشتی پارٹی کو بارودی سرنگ کے دھماکے سے نشانہ بنایا گیا۔
ڈائریکٹر جنرل پولیس وی ڈی رام نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ دھماکے میں سی آر پی ایف کے ایک انسپکٹر سمیت گیارہ اہلکار ہلاک ہوئے۔
اعلی پولیس حکام اضافی کمک کے ساتھ جائے وقوعہ کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔
حال ہی میں ماؤ نواز باغیوں کے حملوں میں شدت آئی ہے اور پارلیمانی انتخابات کے دوران تشدد کے مختلف واقعات میں تیس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں سے زیادہ تر پولیس اہلکار تھے۔
حکومت نے نکسلوادیوں کے خلاف کارروائی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے اور داخلہ امور کے وزیر مملکت اجے ماکن کو اس کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ماؤنواز باغی مزدوروں کو ان کے حقوق دلانے اور موجودہ نظام حکومت کے خلاف کئی دہائیوں سے مسلح تحریک چلا رہے ہیں۔
بعض تخمیوں کے مطابق ملک کے چھ سو اضلاع میں سے ڈیڑھ سو سے زیادہ میں نکسلیوں کا اثر ہے۔ سن دو ہزار پانچ سے ماؤ نواز باغیوں کے حملوں میں جو لوگ ہلاک ہوئے ہیں ان کی تعداد کشمیریا شمال مشرقی ریاستوں میں جاری شورش سے مرنے والوں سے زیادہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدترین طور پر مثاثر ریاستوں میں چھتیس گڑھ اور جھاڑ کھنڈ شامل ہیں اور صرف جنوری دو ہزار چھ سے لیکر اب تک چھتیس گڑھ میں ہی پانچ سو سے زیادہ لوگ ماؤنواز باغیوں کے حملوں میں مارے جاچکے ہیں۔





















