مالی خسارہ توقعات سے کہیں زیادہ

پرنب مکھرجی
،تصویر کا کیپشنپرنب مکھرجی کے بجٹ سے کچھ طبقے خوش ہیں تو کچھ ناراض بھی ہیں
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

وفاقی بجٹ میں اگر بنیادی ڈھانچے، کسانوں اور 'عام آدمی' پر تصرفات میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے تو حصص بازار میں تیزی سےگراوٹ کیوں آئی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نےرواں مالی سال کے لیے بجٹ میں جو اعلانات کیے ہیں ان پر خرچہ حکومت کی آمدنی سے بہت زیادہ ہے۔

دنیا کے بیش تر ممالک میں بجٹ میں خسارہ تو ہوتا ہے لیکن وہ جتنا کم ہو، حالات معاشی استحکام اور ترقی کے لیے اتنے ہی سازگار مانے جاتے ہیں۔ یعنی اخراجات پورے کرنے کےلیے جتنا کم قرض لینا پڑے اتنا اچھا ہے۔ پرنب مکھرجی کے مطابق رواں مالی سال میں خسارہ قومی مجموعی پیداوار کا چھ اعشاریہ آٹھ فیصد رہے گا جو ماہرین کے مطابق اقتصادی مندی کے حالات میں بھی بہت زیادہ ہے۔ عام توقعات یہ تھیں کہ مالی خسارہ گزشتہ برس کے چھ اعشاریہ دو فیصد سے بڑھ کر چھ اعشاریہ پانچ فیصد تک جاسکتا ہے۔ اقتصادی مندی سے نکلنے کا ایک آزمودہ طریقہ یہ ہے کہ حکومت بنیادی ڈھانچے پر زیادہ سے زیادہ رقم خرچ کرے۔ اس سے اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی آتی ہے، لوگوں کی آمدنی بڑھتی ہے، اور جب وہ خرچ کرتے ہیں تو انجام کار معاشی بحالی کی رفتار تیز ہوتی ہے۔

لیکن ایسا کرنے سے مالی خسارہ ان حدود کو پار کرجاتا ہے جو عام حالات میں' ذمہ دار مالی پالیسی' کا اشارہ دیتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بازار میں مندی ہو تو براہ راست اور بالواستہ ٹیکسوں کی شکل میں حکومت کی آمدنی بھی اس تناسب سے کم ہو جاتی ہے۔ ماہرین کی شکایت یہ ہے کہ بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ خسارے کو ان حدود میں واپس کیسے اور کب لایا جائے گا۔ ان کا موقف ہے کہ زراعت اور بنیادی ڈھانچے پر تصرفات سے آگے چل کر تو اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہوگی، لیکن اس سچائی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ملکی معیشت اس سطح کے مالی خسارے کا بوجھ زیادہ عرصےتک برداشت نہیں کرسکتی۔ ماہرین کو ایک توقع یہ تھی کہ اب جب کہ حکومت کو لیفٹ فرنٹ کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے، مالی خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے سرکاری زمرے کی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر نجکاری کا عمل شروع کیا جائےگا لیکن پرنب مکھرجی نے اپنی تقریر میں اس کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ پرنب مکھرجی کے مطابق 'چیلنج یہ ہے کہ نو فیصد ترقی کی رفتار جلد سے جلد دوبارہ حاصل کی جائے۔' وزیر اعظم منموہن سنگھ کے مطابق رواں مالی سال میں سات فیصد ترقی حاصل کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں ترقی کی رفتار چھ اعشاریہ سات فیصد رہی تھی جب کہ عالمی کساد بازاری کا شکنجہ کسنے سے قبل معیشت نو فیصد سے بڑھ رہی تھی۔ ایک تجزیے کے مطابق اگر خوراک اور تیل کے شعبوں کو دی جانے والی رعایتوں کو بھی شامل کیا جائے تو گزشتہ مالی سال میں مالی خسارہ در اصل دس فیصد کے قریب تھا۔ لیکن یہ رعایتیں بجٹ کی بیلنس شیٹ سےباہر ہی رکھی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر حکومت نے گزشتہ ہفتے جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا، تو' عام آدمی' کو فائدہ پہنچانے کے لیے مٹی کے تیل اور کھانا پکانےکی گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائیں۔ اس سے حکومت پر تیس ہزار کروڑ روپے کا اضافی بوجھ بڑھےگا۔ بہر حال، صورتحال کتنی اچھی یا خراب ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ رواں مالی سال کے لیے ہمسایہ ملک چین کا مالی خسارہ تین فیصد سے کم ہے اور امریکہ کا گیارہ فیصد سے زیادہ۔