ماحول بچاؤ اشتراک ضروری: ہیلری

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسئلے پر ہندوستان اور امریکہ کے درمیان باقاعدہ حمکت عملی کی ضرورت ہے۔
دلی کے نواحی شہر گڑگاؤں میں ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع پر ایک سیمنار میں حصہ لینے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطرناک گیسوں کے اخراج کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کو سخت قدم اٹھانے چاہیے۔
اس موقع پر ہندوستان کے ماحولیات اور جنگلات کے جونئیر وزیر جے رام رمیش نے کہا کہ ہندوستانی بھی ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے پر سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ بھارت کاربن کے اخراج پر حمکت عملی طے کرنے سے بھاگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کے لیے پہلے سی ہی ایک پالیسی بنا لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ شدت پسندی کے خلاف لڑ رہا ہے اور امید کرتا ہے کہ دنیا کا ہر ملک اس لڑائی میں حصہ لے گا۔ ہیلری کلنٹن اتوار کی دوپہر ہندوستان کے اپنے پانچ روزہ دورے کے تیسرے دن ممبئی سے دلی پہنچی ہیں۔
ممبئی میں ملک کے سرکردہ صنعت کاروں، چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو ہوئے حملے کے متاثرہ افراد، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان اور بعض ٹیچر اور طالب علموں سے ملاقات کرنے کے بعد امریکہ کی وزير خارجہ ہیلری کلنٹن نے دلی کا رخ کیا ہے۔
ہیلری کلنٹن دلی میں قیام کے دوران وزیر اعظم منموہن سنگھ ، کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما لال کرشن اڈوانی سے بھی ملاقات کری گی۔
اپنے ممبئی کے دورے کے دوران انہوں نے شدت پسندی، ہند پاک تعلقات اور ممبئی حملوں سے متعلق صحافیوں سے بات چیت کی تھی۔ ممبئی میں انہوں نے کہا تھا کہ ’شدت پسندی کے خلاف جنگ میں ہندوستان اور امریکہ ساتھ ساتھ ہیں۔‘
اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان نے شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ حالانکہ ان کا کہنا تھا پاکستان میں سرگرم شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کو کڑے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ممبئی میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ امریکہ کے رشتوں کے نئے دور کی ابتدا ہو رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







