’مسئلہ کشمیر حل کے قریب تھا‘

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلّی
پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نےمسئلہ کشمیر کےاس مجوزہ حل کی تفصیلات ظاہر کی ہیں جن پر بقول ان کے ہندوستان اور پاکستان معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔
انڈین ٹی وی چینل سی این این آئی بی این کے ساتھ ایک انٹرویو میں جنرل مشرف نے کہا کہ دونوں ملکوں میں بہت سی اہم تجاویز پر ’اصولاً اتفاق‘ ہوگیا تھا لیکن بہت سی تفصیلات طے کرنا اور ان کے اطلاق کا طریقہ کار وضع کیا جانا باقی تھا۔
جنرل مشرف کےمطابق مجوزہ حل کے تین بنیادی پہلو تھے:
٭کشمیر کے دونوں حصوں سے فوجوں کا انخلاء
٭سیلف گورننس یا خود حکمرانی
٭ اور اس کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ نظام کا قیام
جنرل مشرف کےمطابق دونوں ملکوں کےدرمیان آگرہ سربراہی اجلاس کے بعد بیک چینل یا ٹریک ٹو سفارتکاری شروع ہوئی تھی اور سیاچن اور سر کریک کے ساتھ ساتھ کشمیر کا پیچیدہ مسئلہ بھی تصفیہ کے بہت قریب پہنچ گیا تھا۔ لیکن کشمیر کے بارے میں دونوں ملکوں میں جن نکات پر اتفاق ہوا تھا، ان کی باریکیاں طے کیا جانا باقی تھا۔
جن تجاویز پرجنرل مشرف نے روشنی ڈالی ہے، ان کا ذکر امریکی جریدے نیو یارکر میں چند ماہ قبل شائع ہونے والے ایک مضمون اور پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے بھی کیا تھا لیکن اتنی تفصیل شاید پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی ہے اور سابق سربراہ حکومت کی سطح پر پہلی مرتبہ اس کی تصدیق کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنرل مشرف کےمطابق ہندوستان لائن آف کنٹرول اور اپنے زیر انتظام کشمیر کے باقی حصوں سے فوج ہٹانے (چھاؤنیوں میں لےجانے) کے لیے تیار تھا اور بدلے میں پاکستان بھی ایسا ہی کرتا۔
’ہماری تجویز یہ تھی کہ پہلے سری نگر، بارہ مولہ جیسے شہروں سے فوج ہٹائی جائے۔۔۔ لیکن اس کے لیے کسی نظام الاقات پر اتفاق نہیں ہوا تھا۔‘
جنرل مشرف نے دعویٰ کیا کہ انڈین حکومت تو اس تجویز پر تیار تھی لیکن ’انڈین فوج کو یہ منظور نہیں تھا۔‘
دوسرا پہلو سیلف گورننس یا خود حکمرانی تھا جس کے تحت کشمیر کے دونوں حصوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کی تجویز تھی۔
’ سیلف گورننس کی تجویز کا اطلاق موجودہ نظام کو برقرار رکھتے ہوئے کیا جاسکتا تھا۔۔۔ کشمیری رہنما بھی اس مجوزہ حل پر رضامند تھے۔‘
’لائن آف کنٹرول کی سرحد کی حیثیت سےاس کی اہمیت ختم کرنےکی تجویز تھی تاکہ دونوں طرف سے لوگ آزادی سےمل سکیں اور اس نظام پر پندرہ بیس سال بعد نظرثانی کی بات رکھی گئی تھی تاکہ اگر ترامیم کی ضرورت ہو تو وہ کی جاسکیں۔‘
انڈین وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی کئی مرتبہ اپنی تقاریرمیں’ سافٹ بارڈر‘ یا ایل او سی کو ’ار ریلی وینٹ‘ بنانے کی بات کر چکے ہیں۔
اور جنرل مشرف کے مطابق اس پورے نظام کی نگرانی کےلیے کشمیریوں کی ہی ایک کمیٹی تشکیل دی جانی تھی لیکن اقتدار اعلیٰ مشترکہ طور پر ہندوستان اور پاکستان کے ہاتھ میں رہتا۔
سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ اس پورے عمل میں فوج کے موجودہ سربراہ جنرل اشفاق کیانی کی رضامندی بھی شامل تھی جو اس وقت آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔
’دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیاتھا کہ وہ اس سمجھوتے کو اپنی فتح (اور دوسرے کی شکست) کے طور پر پیش نہیں کریں گے کیونکہ اس سے عوام کو ساتھ لےکر چلنا مشکل ہوجاتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکریک پر تقریباًً اتفاق ہوگیا تھا اور سیاچن پر صرف اعلیٰ قیادت کی طرف سے فیصلے لیے جانے کی دیر تھی۔
’اگر اس وقت منموہن سنگھ پاکستان کے دورے پر آجاتے تو کم سے کم ایکمعاہدے پر دستخط ضرور ہوجاتے۔۔ لیکن ان میں سے کسی بھی معاہدے کے بارے میں کوئی رسمی دستاویز موجود نہیں ہے۔ ’
لیکن جنرل مشرف کے مطابق یہ معاہدہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا کیونکہ پاکستان کےاندرونی حالات بدل جانے کی وجہ سے ’ ان کی توجہ اس طرف سے ہٹ گئی۔۔ نہ منموہن سنگھ نے دورے میں دلچسپی دکھائی اور نہ ہی میں نے ان پر زور ڈالا۔‘





















