انڈیا: شرارتی بندروں کے لیے سکول

بندر
،تصویر کا کیپشنپنجاب میں 65000 جنگلی بندر ہیں

ہندوستان میں محکمۂ جنگلات کا کہنا ہے کہ شرارتی بندروں کو تمیز سکھانے کے لیے ایک سکول کھولا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس سکول میں ان بندروں کو رکھا جائے گا جنہوں نے ریاست پنجاب کے لوگوں پریشان کیا ہوا ہے۔

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب کے عوام بندروں سے سخت پریشان ہیں کیونکہ یہ بندر شہر اور قصبوں میں کھانے کی تلاش میں چلے جاتے ہیں اور لوگوں کو پریشان کرتے ہیں۔

ریاستی حکومت نے ملک کی مرکزی زو اتھارٹی سے اس سکول کو کھولنے کے لیے فنڈ مانگا ہے۔ پنجاب میں 65 ہزار سے زیادہ جنگلی بندر ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے جنگلات ختم ہورہے ہیں یہ بندر رہائشی علاقوں کا رخ کررہے ہیں۔ بیشتر بندر شہروں اور قصبوں میں رہتے ہیں اور کھانے کے لیے ان کا انسانوں پر حملہ کرنا عام ہے۔

شرارتی بندروں کی تعداد ملک کے ان علاقوں میں زیادہ ہے جو شمال مغرب میں پاکستانی سرحد سے متصل ہیں۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ بندر بچوں کو ڈراتے ہیں، لوگوں سے کھانے کا سامان چھینتے ہیں اور جائیداد کو نقصان کو پہنچاتے ہیں۔

چیف وائلڈ لائف وارڈن آر کے لونا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بندروں کے حملے کا شکار لوگ تو ہسپتال پہنچتے ہیں لیکن ساتھ جب عوام ان بندروں کو بھگانے کی کوشش کرتے ہیں تو بندروں کو بھی چوٹ لگتی ہے‘۔ بندروں کو بھگانے کے لیے لوگ کبھی کبھی بجلی کے کرنٹ والی تاریں بھی استمعال کرتے ہیں۔

مجوزہ سکول میں شرارتی بندروں کو رکھا جائے گا اور انہیں تمیز سکھائی جائے گی۔ مسٹر لونا کا کہنا ہے کہ سکول میں بعض ایسے سائنسی طریقے استعمال کیے جائیں گے جس کی مدد سے بندروں کو تمیز سکھائی جائے گی۔

ایسا مانا جارہا ہے کہ ان سکول میں کم از کم سو بندروں کو رکھا جائے گا۔ یہ سکول پنجاب کے شہر پٹیالہ میں کھولا جائے گا جو کہ ایک چھوٹے چڑیا گھر کی طرز پر ہوگا۔ مسٹر لونا کا کہنا ہے کہ یہ سکول جلد از جلد شروع ہوگا۔ یہ سکول اس جیل کا متبادل ہوگا جو پٹیالہ میں ہی شرارتی بندروں کو تمیز سکھانے کے مقصد سے کھولی گئی تھی۔ حالانکہ حکومت کا یہ تجربہ ناکام رہا تھا اور یہ جیل اب بند ہوچکی ہے۔