'ہمارے پاس مناسب جواب ہے'۔

ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ شرم الشیخ میں ہندوستان اور پاکستان کے مشترکہ علامیہ پر پیدا ہوئے تنازعے کے سلسلے میں حکومت کے پاس مناسب جواب ہیں۔
انہوں نے میڈیا کی ان خبروں کو خارج کیا گیا ہے جس میں کہا جارہا تھا کہ مشترکہ اعلامیہ کے بعد حکومت اور کانگریس پارٹی کے درمیان تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔
خبررساں ایجنسیوں کے مطابق منموہن سنگھ نے دلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا' مجھے یقین ہے کہ ہمارے پاس سارے مناسب جواب ہیں۔ یہ سارا تنازعہ میڈیا کا پیدا کیا ہوا ہے'۔
گزشتہ دنوں شرم الشیخ میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوبارہ بات چیت کرنے پر اتفاق ہوا تھا اور یہ طے ہوا تھا کہ شدت پسندی سے متعلق اقدامات کو باہمی بات چیت کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔ اس مفاہمت کے بعد نہ صرف ٹی وی چینلز بلکہ دوسرے ذرائع ابلاغ میں بھی یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ ہندوستان نے پاکستان کے حق میں ضرورت سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ اور حزب اختلاف کی جماعت نے جم کر حکومت کی نکتہ چینی کی۔
منموہن سنگھ کی اس بات پر سب سے زیادہ تنقید ہورہی ہے کہ ہندوستان نے پاکستان کی یہ بات، کہ اس کے پاس بلوچستان اور پاکستان کے ديگر حصوں میں جاری شورش میں ہندوستان کا ہاتھ ہونے کے ثبوت ہیں، بنا کسی مخالفت کے مشترکہ اعلامیے میں جانے دیا۔
حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن آڈوانی سوال اٹھایا تھا کہ اگر بھارت سرکار کو پاکستان سے بات چیت جاری ہی رکھنی تھی تو ممبئی حملوں کے بعد سات ماہ تک اس پر روک لگانے کی کیا ضرورت تھی۔
منموہن سنگھ نے یہ یقین دلایا تھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تب تک بات چيت نہیں شروع کرے گا جب تک پاکستان اپنی سرزمین سے شدت پسندی کا خاتمہ نہ کرے۔ لیکن اس کے باوجود مشترکہ علامیہ پر تنازعہ بڑھتا گیا۔
منموہن سنگھ نے سنیچر کو صحافیوں سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر زیادہ کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ معاملہ پارلیمان میں زیر بحث ہے اور 29 جولائی کو پارلیمان میں وہ اپنا موقف پیش کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر ہندوستان کے وزیر داخلہ پی چدامبرم نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹریو میں ان الزامات کو مسترد کردیا ہے کہ ہندوستان بلوچستان میں شدت پسندوں کو تربیت دے رہا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھارت کا کوئی دخل نہیں ہے۔





















