’پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا خیر مقدم‘

سونیا گاندھی
،تصویر کا کیپشنکانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے بھی مشترکہ اعلامیہ کی حمایت کی ہے۔

ہندوستان میں حکمراں جماعت کانگریس کی صدر سونیاگاندھی نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کے وزیراعظم منموہن سنگھ کے موقف کی حمایت کی ہے۔ لیکن محترمہ گاندھی کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملک کے ساتھ بات چیت کا انحصار ممبئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی پر مبنی ہونا چاہیے۔ '' چھبیس نومبر کے مجرمین کے خلاف پاکستان کی کارروئی بات چیت کی بنیاد ہونی چاہیے۔''

سونیا گاندھی نے یہ بات پارٹی کارکنان سے اپنے خطاب میں کہی ہے۔

کانگریس پارٹی کے بعض رہنماؤں اور کارکناں میں شرم الشیخ میں جاری ہوئے بھارت اور پاکستان کے درمیان کے مشترکہ اعلامیہ پر خدشات پائے جاتے ہیں جنہیں مطمئن کرنے کے لیے سونیا گاندھی نے میٹنگ طلب کی تھی۔

پارٹی کارکنان سے اپنے خطاب میں سونیا گاندھی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کا انحصار اس بات ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی کرتا ہے یا نہیں۔

بدھ کے روز پارلیمان میں وزیراعظم منموہن سنگھ نے شرم الشیخ میں پاکستانی وزیراعظم یسوف رضا گیلانی کے ساتھ اپنے مشترکہ بیان کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت ہی واحد راستہ ہے اور ان کی حکومت کا بھی یہی موقف ہے جس پر وہ قائم ہیں۔

جمعرات کی صبح کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے اپنی جماعت کے ارکان پارلیمان اور دیگر کارکنان سے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم منموہن سنگھ کے موقف کی پرزور حمایت کی اور کہا کہ اب اس مسئلے پر کوئی تذبذب اور غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔

اطلاعات کے مطابق پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے بیان کے باوجود کانکریس پارٹی کے بعض ارکان شرم الشیخ کے مشترکہ اعلامیہ سے خوش نہیں ہیں۔ لیکن سونیا گاندھی کھلی حمایت کے بعد شاید اب یہ مشکل ہو کہ کوئی بھی رکن وزیراعظم کی کھل کر مخالفت کر سکے۔

مبصرین کے مطابق اس مسئلے پر پارٹی میں اختلافات کے بعد ہی سونیا نے وزیراعظم کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا ہے تاکہ مزید کسی پیچیدگی سے بچا چا سکے۔

بھارت میں اپوزیشن جماعتوں نے مصر کے مشترکہ اعلامیہ کے حوالے سے وزیر اعظم منموہن سنگھ پر سخت نکتہ چینی کر رہے ہیں۔