ممبئی دھماکے: فیصلہ چھ اگست تک محفوظ

حنیف
،تصویر کا کیپشنپولیس کیس کے مطابق ملزمین نے بم دھماکہ کی سازش دبئی میں تیار کی تھی
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

ممبئی کی خصوصی پوٹا عدالت نے دہورے بم دھماکو کے مجرمین کی سزا پر اپنا فیصلہ چھ اگست تک محفوظ رکھ لیا ہے۔ عدالت نے منگل کو سرکاری وکیل اجول نکم اور دفاعی وکلاء سوشان کنجو رمن اور وکیل سدیپ پاسبولا کی جرح سننے کے بعد اگلی سماعت چھ اگست تک ملتوی کر دی۔

سرکاری وکیل نکم نے مجرمین کے لیے سزائے موت کی اپیل کی ہے۔ حسن سید اور فہمیدہ کے وکیل سدیپ پاسبولا نے مجرمین کی سزا کم کرنے کی اپیل کی لیکن کنجو رمن کے مطابق انہوں نے عدالت میں کچھ نہیں کہا ہے۔

اڈیوکیٹ رمن نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران کہا ' جب وہ جانتے ہیں کہ ان کا موکل بے قصور ہے تو پھر وہ سزا کم کرنے یا رحم کی اپیل کیوں کریں۔' ان کا کہنا تھا کہ چھ اگست کو فیصلہ آنے کے بعد وہ اپنے موکل کے لیے انصاف کی خاطر ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

رمن کے مطابق انہیں عدالت کے فیصلے پر حیرت ہے کیونکہ جب اس کیس کے دیگر دو ملزمین کو سپریم کورٹ نے رہا کر دیا اور ان کے خلاف ثبوت نہیں تھا تو پھر کیس بنیاد پر عدالت نے ان کے موکل کو قصوروار قرار دیا تھا۔

عدالت نے دوہرے بم دھماکہ کیس کے تین مجرمین کو بم دھماکہ کی ساز، قتل ، اقدام قتل عوامی املاک کو نقصان پہچانے اور دھماکہ خیز اشیاء قانون کے تحت مجرم قرار دیا تھا۔

پچیس اگست سن دو ہزار تین کو گیٹ وے آف انڈیا اور زویری بازار میں دوپہر ایک بج کر پانچ منٹ پر ایک ساتھ دو دھماکے ہوئے تھے جس میں باون افراد ہلاک اور ایک سو چوراسی زخمی ہوئے تھے۔

پولیس نے ان دھماکوں کے الزام میں چھ افراد حنیف سید ان کی بیوی فہمیدہ ، عشرت انصاری ، محمد انصاری لڈو والا اور حسن بیٹری والا اور زاہد پٹنی کو گرفتار کیا تھا۔ بعد میں پٹنی وعدہ معاف گواہ بن گیا اور سپریم کورٹ نے لڈو والا اور بیٹری والا کو اس کیس سے ناکافی ثبوت کی وجہ سے بری کر دیا تھا۔ ان افراد کےخلاف پوٹا قانون ( Prevention Of Terrorism Act) کے تحت کیس درج کیا تھا۔

پولیس کیس کے مطابق ملزمین نے بم دھماکہ کی سازش دبئی میں تیار کی تھی۔ اس میٹنگ میں مبینہ طور پر حسن سید ، ناصر اور عشرت انصاری موجود تھے۔ پولیس نے ناصر کو انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا۔ پولیس کا دعوی تھا کہ ناصر اس دھماکہ کا اہم مہرہ تھا۔

پولیس کے مطابق اس دھماکہ کے پیچھے لشکر طیبہ کا ہاتھ تھا جنہوں نے سن دو ہزار میں گجرات میں ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کا بدلہ لینے کے لیے یہ دھماکے کرائے تھے۔

سرکاری وکیل اجول نکم کے مطابق انہی ملزمین نے پہلے گھاٹ کوپر کی ایک بس میں بم نصب کیا تھا اس کے بعد سیپز کمپنی میں بھی بم رکھا تھا لیکن وہ پھٹ نہیں سکا تھا اس کے بعد زیادہ لاکتوں کے لیے انہوں نے یہ دھماکے گیٹ وے آف انڈیا اور زیویری بازار میں کرائے۔