سنجے دت انتخاب نہیں لڑ سکتے

- مصنف, صلاح الدین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے کے تحت اداکار سنجے دت کی انتخاب لڑنے کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ سنجے دت لکھنؤ حلقے سے لوک سبھا کی سیٹ سے انتخاب لڑنا چاہتے تھے لیکن اس فیصلے کے بعد وہ انتخاب نہیں لڑ سکیں گے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ ان کا معامعلہ سنگین نوعیت کا ہے اور ٹاڈا کورٹ نے انہیں قصوروار ٹھہرایا ہے جس پر امتناعی حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
سنجے دت لکھنؤ شہر سے سماجوادی پارٹی کے امید وار تھے اور وہ اس حلقے میں سماجوادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ اور امرسنگھ کے ساتھ اپنے لیے انتخابی مہم بھی چلاتے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اب سنجے دت کی جگہ ان کی بیوی مائنتہ دت انتخاب لڑ سکتی ہیں۔ لیکن اس بارے میں ابھی سماجوادی پارٹی کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
اس معاملے کی سماعت کرنے والی بینچ کی سربراہی خود چیف جسٹس آف انڈیا کے جی بالا کرششن کر رہے تھے۔ بینچ نے سماعت کے بعد پیر کے روز اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ منگل کو چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں کہا ’ ہم ان کو قصوروار قرار دیے جانے پر روک لگانے کے حق میں نہیں ہیں۔یہ ایسا کیس نہیں جس کے کنوکشن پر حکم امتناع کو جاری کیا جا سکے۔‘
عدالت کا کہنا ہے کہ سنجے دت کو ممبئی کی ٹاڈا کی خصوصی عدالت نے سنگین معاملات کے تحت قصوروار ٹھہرایا ہے۔ سپریم کورٹ نے دفعہ آٹھ کے تحت سنجے دت کو انتخاب لڑنے کے لیے نا اہل قرار دیا ہے۔ دفعہ آٹھ کے تحت کوئی بھی فرد اگر عدالت سے دو برس یا اس سے زیادہ مدت کے لیے سزا یافتہ ہو تو وہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتا ہے۔
سنجے دت سنہ انیس ترانوے میں ممبئی کے دھماکوں کے سلسلے میں سزا یافتہ ہیں۔ انہیں غیر قانونی طور پر ہتھیار رکھنے کے جرم میں ٹاڈا کی خصوصی عدالت نے چھ برس کی سزا سنائی تھی۔ اس معاملے میں انہیں سپریم کورٹ سے ضانت ملی ہوئی ہے۔ سنجے دت نے اسی ٹاڈ کورٹ کے فیصلے پر روک کے لیے سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی۔
کئی سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان وی رپا موئیلی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر لکھنؤ سےسنجے دت امیدوار ہوتے تو وہ اپنا امیدوار نہیں کھڑا کرتی لیکن اب وہ اس بارے میں ازسر نو غور کریگی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان ارون جیٹلی نے کہا کہ اس فیصلے سے ایک واضح پیغام یہ جائیگا کہ سزا یافتہ افراد کی سیاست میں جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ بقول ان کے اگر سنجے کو اجازت مل جاتی تو ایسے بہت سے افراد کی درخواستیں عدالتوں میں پڑی ہیں اور انہیں بھی اجازت دینی پڑتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















