لال گڑھ میں صرف جزوی کامیابی : حکومت

لال گڑھ
،تصویر کا کیپشنحکومت کے مطابق لال گڑھ کی صوتحال کافی تشویش ناک ہے۔
    • مصنف, سبیر بھومک
    • عہدہ, بی بی سی نیوز کلکتہ

ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کے لال گڑھ علاقے میں مزید تین لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

گزشتہ دنوں لال گڑھ علاقے کو ہی ماؤنواز باغیوں نے اپنے قبضے میں لینے کا دعوی کیا تھا اور علاقے کو واپس قبضے میں لینے کے لیے سکیورٹی فورسز کو کارروائی کرنی پڑی تھی۔

ان تین لاشوں کے ملنے کے بعد گزشتہ پانچ دنوں میں مرنے والوں کی تعداد کل نو ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے ماؤ نواز مخالف اور سکیورٹی فورسز کی مدد کرنے والے تھے۔

وہیں جمعرات کو مغربی بنگال کی حکومت نے یہ قبول کیا تھا کہ لال گڑھ کو ماؤ نواز باغیوں سے چھڑانے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی کارروائی کچھ حد تک ہی کامیاب ہوئی ہے۔

مغربی بنگال کے داخلہ سیکریٹری اردھیندو سین نے بتایا ’اب تک ہم پوری طرح سے ماؤ نواز باغیوں کو لال گڑھ سے نکالنے اور عام شہریوں کو ماؤ نوازوں کے حملوں سے بچانے ميں کامیاب نہيں ہوئے ہیں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماؤنوازوں کے خلاف آپریشن ميں ہمیں امید کے مطابق نتائج حاصل نہیں ہوئے ہیں۔

ایک نیوز کانفرنس میں لال گڑھ کی صورتحال سے صحافیوں کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماؤنواز باغی اب بھی لوگوں کو لال گڑھ میں اغواء ، قتل اور مخصوص لوگوں کو نشانہ بنا سکتے ہيں۔

سین کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ لال گڑھ کی صوتحال کافی تشویش ناک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ دو ہفتے میں لال گڑھ میں تازہ آپریشن شروع کیا جائے گا۔

سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے آپریشن میں اب تک پچیس افراد مارے جا چکے ہیں۔