لال گڑھ: ماؤ نواز ’دہشت گرد‘ قرار پائے

لال گڑھ
،تصویر کا کیپشنوفاقی حکومت نے مغربی بنگال کی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ باغی ٹرینوں اور دیگر سرکاری تنصیبات کو نشانہ بناسکتے ہیں
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دلی

مرکزی حکومت نے ماؤ نواز کمیونسٹ پارٹی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی لگا دی ہے جبکہ مغربی بنگال کے لال گڑھ علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے خلاف ماؤ نواز باغیوں کی اپیل پر پانچ ریاستوں میں اڑتالیس گھنٹے کی ہڑتال جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز نے ’آزاد‘ لال گڑھ علاقے سے ماؤ نواز باغیوں کا صفایا کرنے کے لیے کارروائی شروع کی ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطاابق لال گڑھ تھانے کے بیالیس میں سے بائیس دیہات پر سکیورٹی فورسز کا کنٹرول قائم ہوگیا ہے۔ مغربی بنگال کی حکومت ماؤ نوازوں پر پابندی لگانے کے خلاف ہے اور پیر کو دلی میں ایک پریس کانفرنس میں ریاست کے حکمراں لیفٹ فرنٹ نے کہا کہ وہ باغیوں سے سیاسی سطح پر نمٹنے کے حق میں ہے۔ لیفٹ فرنٹ کے چئر مین بیمان بوس نے کہا کہ ’ ان گمراہ تنظیموں کا مقابلہ ان پر پابندی لگا کر نہیں کیا جاسکتا۔‘ ادھر لال گڑھ سے نامہ نگار امیتابھ بھٹاشالی کے مطابق باغیوں کی قیادت نے بھی مذاکرات کی پیش کش دہرائی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کے خلاف کارروائی روکی جائے اور مذاکرات کا واضح اجنڈا طے کیا جائے۔ ہڑتال کے دوران ابھی تک کسی بڑے حملے کی اطلاع نہیں ہے لیکن جھاڑکھنڈ میں باغیوں نے بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے والی گاڑی کو تباہ کردیا جبکہ مغربی بنگال کے وستار پور علاقے میں ریل کی پٹری سے بارودی سرنگ ملنے کے بعد ٹرینوں کی آمد و رفت رو ک دی گئی ہے۔ ماؤ نوازوں کے اثر والے علاقوں میں ہڑتال کا خاصا اثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسی دوران وفاقی حکومت نے مغربی بنگال کی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ باغی ٹرینوں اور دیگر سرکاری تنصیبات کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ ان حملوں کے خطرے کے پیش نظر پانچوں ریاستوں میں سکیورٹی فورسز کو پہلے ہی مکمل چوکسی برتنے کی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔ ماؤنوازوں پر پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے مارکسوادی کمونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری پرکاش کرات نے کہا کہ ’اگر ہم ماؤنوازوں پر پابندی لگاتے ہیں تو وہ کسی نئے پرچم تلے سرگرم ہو جائیں گے۔‘ ماؤنواز کمیونسٹ پارٹی کو ملک میں سرگرم نکسلی تنظیموں میں سب سے بڑے گروپ کی حیثیت حاصل ہے۔ پابندی کے بعد وہ چونتیس ممنوعہ تنظیموں کی اس فہرست میں شامل ہوگئی ہے جس میں مسلم طلبا کی تنظیم سیمی اور لشکر طیبہ بھی شامل ہیں۔

ماؤ نواز باغی، جنہیں نکسلوادی بھی کہا جاتا ہے، ملک کے چھ سو میں سے ڈیڑھ سو سے زیادہ اضلاع میں سرگرم ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے مزدوروں کو ان کے حقوق دلوانے اور موجود نظام حکومت بدلنے کے خلاف مسلح تحریک چلا رہے ہیں۔

گزشتہ روز موصول ہونے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا ریاست مغربی بنگال کے لال گڑھ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے پولیس سٹیشن کو تو ماؤنواز باغیوں کے قبضے سے رہا کروا لیا ہے لیکن گاؤں میں انہیں کوئی خاص کامیابی حاصل نہيں ہو رہی ہے۔

وہیں ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت ترینامول کانگریس کی راہنما اور ریلوے کی وزیر ممتا بینرجی نے ریاستی حکومت کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔