سکیورٹی فورسز لال گڑھ میں اور تازہ حملے

لال گڑھ کاروائی
،تصویر کا کیپشنلال گڑھ پہنچے سکیورٹی فورسز کے اہلکار
    • مصنف, سبیر بھومک
    • عہدہ, بی بی سی نیوز کلکتہ

ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کے لال گڑھ علاقے میں سکیورٹی فورسز پہنچنے میں تو کامیاب ہو گئی ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ابھی بھی راستہ محفوظ قرار نہيں دیا جا سکتا۔

سنيچر کو تنمونی گاؤں ميں ماؤنواز باغیوں نے باردوی سرنگوں ميں دھماکہ کیا جس ميں کم از کم چھ پولیس والے اور ان کے ساتھ جانے والے بعض صحافی بھی زخمی ہو گئے ہیں۔

مغربی بنگال کے داخلہ سکریٹری اردھیندو سین نے صحافیوں کو بتایا ہے' ہم اسے ایک بڑی کامیابی قرار دے سکتے ہیں لیکن سکیورٹی اہلکاروں کو حملوں اور دھماکوں سے چوکنّہ رہنا پڑے گا۔'

ان کا مزید کہنا تھا 'جب لال گڑھ میں سکیورٹی فورسز اپنے پیر جما لیں گی اس کے بعد ہی ماؤنوازوں کی دھڑپکڑ کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔'

وہيں مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اشوک موہن چکروتی نے ماؤنواز باغیوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔ایک نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا " ان کا کوئی مطالبہ نہیں ہے تو ہم اس موضوع پر ان سے بات چیت کریں۔" وہ صرف عوام میں افرا تفری کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں انہيں ایسا کرنے سے روکنا ہوگا۔"

دوسری جانب بی بی سی کے نامہ نگار امیتابھ بھٹاسالی نے لال گڑھ سے بتایا ہے کا جس راستے کو عبور کر کے سکیورٹی فورسز نے پیش قدمی کی تھی ان راستوں پرماؤنواز باغیوں نے دوبارہ رکاوٹیں پیدا کر دی ہیں۔

ان کے مطابق بظاہر ابھی یہ بتانا مشکل ہے کہ یہ آپریشن کب تک جاری رہے گا۔

اس کارروائی میں ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے جوان شامل ہیں۔ جمعہ کی صبح ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے جوانوں نے لال گڑھ سے محض پانچ کلیومیٹر دور جھٹکا کے جنگلات میں پہنچ کر کارروائی شروع کر دی تھی۔

وہيں پیراکلی علاقے ميں ماؤنواز باغیوں نے بارودی سرنگ کے ذریعے پولیس کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں دو پولیس والے زخمی ہو گئے۔

لال گڑھ آپریشن
،تصویر کا کیپشنآپریشن جمعرات کی شام شروع ہوا تھا

جمعہ کی شام لال گڑھ سے آٹھ کیلومیٹر دور پیرا کلی علاقے میں ماؤنواز باغیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم ہوا تھا لیکن سنیچر کوحالات بدلے ہوئے ہیں اور سکیورٹی فورسز کے جوان آرام سے آگے بڑھتے رہے۔

جمعرات کو سکیورٹی فورسز کو لال گڑھ سے سولہ کلومیٹر دور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس مقام پر تقریبا تین ہزار لوگوں کا ہجوم موجود تھا اور اس نے سکیورٹی فورس کو آگے بڑھنے نہیں دیا تھا۔

ادھر حکومت نے لال گڑھ علاقے میں کارروائی تیز کرنے کے لیے گاؤں والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات میں چلے جائيں۔ اس پیغام کو گاؤں والوں تک پہنچانے کے لیے فضائیہ کے طیاروں نے گاؤں میں ایک خط کی کاپیاں گرائی گئی تھیں ۔

مقامی صحافی لکشمن رائے کے مطابق سکیورٹی فورسز کے آگے بڑھنے سے عام لوگوں ميں تناؤ اور ڈر پیدا ہو گیا ہے اور لوگ علاقے کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔

اس علاقے میں حالیہ دنوں میں تشدد کے واقعات میں حکمراں مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے کئی کارکنان ہلاک ہوگئے ہیں۔ منگل کو چھ لوگ مارے گئے تھے جبکہ اب بھی چھ کارکنان لا پتہ ہیں۔

مغربی ضلع مدنا پور حکمراں بائیں محاذ کا گڑھ سمجھا جاتا تھا لیکن گزشتہ ماہ نومبر سے جب سے ماؤنواز سی پی آئی ایم مخالف ہوگئے ہیں تب سے حالات خراب ہوتے چلے گئے۔ حکومت نے اس ڈر سے کارروائی نہیں کی کہ کہیں سنگور اور نندی گرام کی طرح اس کا بھی برا اثر نہ پڑے۔