ممبئی : تین مجرموں کو سزائے موت

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ممبئی میں پوٹا کی خصوصی عدالت نے دوہرے بم دھماکے کیس کے تینوں مجرموں کو موت کی سزا کا حکم دیا۔
پچیس اگست سن دو ہزار تین کو گیٹ وے آف انڈیا اور زیویری بازار میں بیک وقت دو دھماکے ہوئے تھے جس میں باون افراد ہلاک اور ایک سو چوراسی زخمی ہوئے تھے۔
جج ایم آر پورانک نے مجرموں حنیف سید ، ان کی بیوی فہمیدہ بانو اور ان کے ساتھی عشرت انصاری کو موت کی سزا سنا دی۔
جج نے دفاعی وکیل سدیپ پاسبولا کی دلیل مسترد کر دی۔ دفاعی وکیل نے کہا تھا کہ فہمیدہ ایک خاتون ہیں اور بیوی ہونے کی وجہ سے انہوں نے شوہر کا ساتھ دیا تھا۔
سرکاری وکیل اجول نکم نے تینوں کے لیے موت کی سزا تجویز کرنے کی اپیل کی تھی انہوں نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ لوگوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کے سدھرنے کے کوئی چانس نہیں ہوتے ہیں اس کے علاوہ اس طرح دہشت پھیلانے والوں کو سخت سے سخت سزا دینے سے سماج میں ایک پیغام جائے گا۔

ممبئی میں ہوئے بم دھماکوں میں یہ دوسرا سب سے اہم فیصلہ ہے۔ اس سے قبل سن ترانوے کے بم دھماکوں میں ٹاڈا کی خصوصی عدالت نے سو مجرموں کو سزا سنائی تھی جس میں بارہ کو سزائے موت کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ ملزمان اس وقت ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔
ٹاڈا قانون ختم ہونے کے بعد پوٹا اس کی نئی شکل تھی اور اس قانون کے تحت دوہرے بم دھماکہ ملزمین کے کیس کی سماعت پوٹا کی خصوصی عدالت میں ہوئی۔
عشرت انصاری کے وکیل کنجو رمن عدالت کے اس فیصلہ کو چیلنج کریں گے۔ ان کی دلیل ہے کہ عدالت عظمی نے جب ملزماں لڈو والا اور بیٹری والا کو اس کیس سے بری کر دیا تھا تو پھر ان کے موکل کے خلاف کیس ہی نہیں بنتا ہے۔ پولیس کیس کے مطابق ملزمان نے بیٹری والا کے گودام میں بم بنایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فہمیدہ اور حنیف سید کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ فیصلہ کی کاپی ملنے کے بعد اسے چیلنج کرنے کے بارے میں غور کریں گے۔

پچیس اگست کو ہوئے دوہرے بم دھماکہ کے بعد پولیس نے چھ ملزمان کو گرفتار کیا تھا جس میں سے دو کو بری کر دیا اور ایک ملزم وعدہ معاف گواہ بن گیا۔ پولیس کا دعوی ہے کہ وعدہ معاف دبئی میں بم دھماکہ سازش کے لیے ہوئی میٹنگ میں شریک تھا۔ پولیس کے مطابق انہوں نے اس کیس کے ایک اہم ملزم ناصر کو انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا۔
دوہرے بم دھماکہ کیس میں چھ برس بعد سزا سنائی گئی۔ اس کیس میں پولیس نے دعوی کیا ہے کہ بم دھماکہ لشکر طیبہ کے اشارے پر ہوے۔ اس کی سازش دبئی میں کی گئی۔ ممبئی کرائم برانچ نے جب اس کیس کی تفتیش کی تب انکشاف کیا تھا کہ سن دو ہزار میں گجرات فسادات میں مسلمانوں کے قتل عام کا بدلہ لینے کے لیے ’گجرات ریوینج فورس‘ نامی تنظیم نے اس کام کو انجام دیا تھا۔
پولیس کیس کے مطابق حنیف سید اپنی بیوی فہمیدہ اور بیٹی کے ہمراہ ایک ٹیکسی کے ذریعہ مبمئی گھموتے رہے اس کے بعد انہوں نے وہ ٹٰیکسی گیٹ وے آف انڈیا پر روکی انہوں نے ایک ریگزین کا بیگ ٹیکسی کی ڈکی میں رکھ دیا تھا۔ ڈرائیور کو کچھ دیر رکنے کے لیے کہہ کر وہ نیچے اترے۔ ڈرائیور شیو نارائن پانڈے کچھ دیر کے اترے اور وہ ٹیکسی بم دھماکہ سے اڑ گئی۔
پولیس کیس کے مطابق عشرت انصاری ٹیکسی کو مبمئی کے زویری بازار لے گئے۔ جہاں ممبا دیوی مندر بھی ہے۔ وہاں وہ ٹیکسی سے نیچے اترے لیکن ڈرائیور ٹیکسی میں ہی تھے اور بم دھماکہ کے ساتھ ان کی بھی موت واقع ہو گئی۔ پولیس نے ان تینوں ملزمان کو گھاٹ کوپر بیسٹ بس دھماکہ کا بھی ذمہ دار قرار دیا۔






















