’پاکستانی شہری بھی شاملِ تفتیش رہے‘

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ممبئی حملوں کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت میں امریکی تفتیشی ایجنسی فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن کے افسر نے بتایا ہے کہ امریکہ میں ممبئی حملوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں پاکستانی شہریوں سے بھی تفتیش کی گئی ہے۔
خصوصی جج ایم ایل تہیلیانی کی عدالت میں ایف بی آئی کے سپیشل ایجنٹ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ممبئی حملوں کی تفتیش امریکہ آزادانہ طور پر کر رہا ہے کیونکہ ان کے حکومت کی پالیسی کے مطابق دنیا کے کسی بھی ملک میں اگر امریکی شہری ہلاک ہوتے ہیں تو ان کا ملک اپنے طور پر اس کیس کی تفتیش کرتا ہے۔ ایجنٹ نے اس سلسلہ میں مزید کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا البتہ انہوں نے عدالت میں کچھ کاغذات داخل کیے ہیں۔
گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر ہوئے شدت پسندانہ حملوں میں چھ امریکی شہری بھی ہلاک ہوئے تھے۔ امریکہ سے ایف بی آئی کی دس رکنی ٹیم ممبئی آئی ہوئی ہے۔ جو اس کیس میں بطور گواہ پیش ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ ایف بی آئی اس کیس کی تفتیش میں ممبئی کرائم برانچ کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔
بارہ اگست کو ایف بی آئی کے فورینسک ماہر نے گواہی دی تھی کہ جی پی ایس سسٹم کے ذریعہ پتہ چلا تھا کہ حملہ آور پاکستان کے کراچی سمندر کے راستے ممبئی میں داخل ہوئے تھے۔
اب تک اس کیس میں دو ایف بی آئی افسران اور تین امریکی شہریوں نے گواہی دی ہے۔ ممبئی حملوں کے اس کیس میں پانچ غیر ملکی شہریوں کی گواہی اب مکمل ہو چکی ہے۔
اس دوران ایف بی آئی کے ممبران نے ممبئی چھترپتی شیواجی ٹرمنس ریلوے سٹیشن اور دادر ریلوے سٹیشن کے ساتھ ہی چرچ گیٹ سٹیشن کا دورہ کیا اور وہاں کے سکیورٹی نظام کا جائزہ لیا۔
سینٹرل ریلوے کے چیف سیکورٹی کمشنر بی ایس سدھو کے مطابق ایف بی آئی کی ’انٹی ٹیررازم اسسٹنٹ ٹیم‘ کے ساتھ وزارت برائے امور داخلہ کے کچھ افسران بھی موجود تھے۔
ممبئی پر ہوئے حملوں میں حملہ آوروں نے سی ایس ٹی ریلوے سٹیشن پر بے دریغ فائرنگ کی تھی جس میں سب سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہاں ان حملوں کے زندہ واحد بچے حملہ آور اجمل امیر قصاب اور ان کے ساتھ ابو اسماعیل نے فائرنگ کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















