ممبئی حملہ کیس:’موبائل فون پاکستانی تھے‘

ممبئی حملوں کے اس کیس میں سماعت کے دوران یہ تیسری غیر ملکی شخص کی گواہی تھی۔
،تصویر کا کیپشنممبئی حملوں کے اس کیس میں سماعت کے دوران یہ تیسری غیر ملکی شخص کی گواہی تھی۔

ممبئی حملوں کی خصوصی عدالت میں نوکیا موبائیل کمپنی کی انفورسمینٹ مینجر نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ گواہی میں بتایا ہے کہ حملہ آوروں کے قبضہ سے جو موبائل فون ضبط کیے گئے تھے وہ سن دو ہزار آٹھ میں پاکستان کے دو ڈیلرز کو بھیجے گئے تھے۔

امریکہ کی تفتیشی ایجنسی فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( ایف بی آئی ) کے دفتر میں بیٹھی اس خاتون نے گواہی کے دوران کہا کہ چین میں بنے ان موبائل کو سمندری راستے پاکستان کے دو ڈیلرز کو بھیجا گیا تھا۔

سرکاری وکیل اجول نکم گواہ سے سوالات کر رہے تھے۔ ان کے پوچھنے پر کہ انہوں نے ان موبائل فونوں کو کیسے پہچانا، خاتون نے جواب دیا کہ نوکیا کمپنی ہر موبائل کو ایک نمبر دیتی ہے جسے IMEI یعنی انٹرنشینل موبائیل اکوپمینٹ آئیڈیٹیفکیشن نمبر کہا جاتا ہےاور اسی سے موبائل کی پہچان ہوتی ہے۔

گواہ نے مزید کہا کہ انہیں جو چھ موبائل فون ملے تھے اس کی انہوں نے اپنے دفتر کے ڈیٹا بیس سسٹم سے معلومات حاصل کی۔

جج ایم ایل تہیلیانی نے سوال کیا کہ کیا کوئی بھی اس ڈیٹا کو حاصل کر سکتا ہےتو گواہ کا کہنا تھا کہ ہاں اگر اس کے پاس کمپنی نے اسے حاصل کرنے کے لیے پاس ورڈ دیا ہو۔

وکیل دفاع عباس کاظمی نے جرح کے دوران گواہ سے اپنا شناختی کارڈ دکھانے کے لیے کہا اور سوال کیا کہ کیا ان کے پاس کمپنی طرف سے جاری کردہ کوئی اختیاری خط ہے جس کی رو سے وہ عدالت کے سامنے گواہی دینے حاضر ہوئی ہیں؟ گواہ کا کہنا تھا کہ سوائے کمپنی کے شناختی کارڈ کے ان کے پاس ایسا کوئی خط یا ثبوت نہیں ہے۔

ایڈوکیٹ کاظمی نے ان پر ایف بی آئی کے کہنے پر گواہی دینے کا الزام عائد کیا جسے خاتون گواہ نے مسترد کر دیا۔

ممبئی پولیس کا دعوی ہے کہ یہ موبائل فون انہیں ان نو حملہ آوروں کے پاس سے ملے جو آپریشن کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان موبائلوں کو انہوں نے ایف بی آئی ایجنسی کو بھیجا تھا اور ایف بی آئی نے تفتیش کے بعد مبینہ طور پر کہا تھا کہ یہ موبائل فون پاکستان کی یونائیٹڈ موبائل کمپنی اور ٹوئیل پاکستان پرائیوٹ لمیٹیڈ نامی فون کمپنی کے ڈیلرز سے خریدے گئے تھے۔

اس سے قبل جمعرات کے روز یاماہا کمپنی کے سروس مینجر نے ایف بی آئی کے دفتر میں بیٹھ کر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ گواہی دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ پولیس نے جو کشتی ضبط کی ہے مبینہ طور پر اس کا انجن ان کی کمپنی نے پاکستان کے ایک ڈیلر کو بھیجا تھا۔ ممبئی حملوں کے اس کیس میں سماعت کے دوران یہ تیسری غیر ملکی شخص کی گواہی تھی۔ نوکیا اور یاماہا کمپنی کے علاوہ ایف بی آئی کے ایک افسر نے شخصی طور پر عدالت میں حاضر ہو کر جی پی ایس سسٹم اور سیٹلائیٹ فون سے متعلق گواہی دی تھی۔

گزشتہ برس نومبر میں ممبئی پر ہوئے حملوں کے کیس کی سماعت ممبئی کی خصوصی عدالت میں جاری ہے۔ ان حملوں کی تفتیش کے لیے ممبئی کرائم برانچ نے امریکی تفتیشی ایجنسی ایف بی آئی کی مدد حاصل کی تھی۔ توقع ہے کہ ایک اور ایف بی آئی افسر پیر کے روز عدالت میں حاضر ہو کر گواہی دیں گے۔