جسونت تنازعہ،کلکرنی بی جے پی سے الگ

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رکن اور سابق وفاقی وزیر جسونت سنگھ کی تازہ کتاب ’جناح، بھارت، تقسیم، آزادی‘ پر تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں اتھل پتھل جاری ہے۔
کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد پہلے پارٹی نے جسونت سنگھ کو نکالا اور اب لال کرشن اڈوانی کے مشیر سدھیندر کلکرنی نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
اتوار کو ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے سدھیندر کلکرنی نے کہا کہ ’نظریاتی‘ اختلافات کی وجہ سے انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو چھوڑ دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے اس فیصلے کے بارے میں کئی ہفتے پہلے پارٹی کے سینئر ممبران کو بتا دیا تھا۔
سدھیندر کلکرنی نے اپنے انٹرویو میں لال کرشن اڈوانی کی تعریف کی اور کہا کہ اڈوانی ایک عظیم لیڈر ہیں اور ان کی وہ عزت کرتے ہیں۔
سدھیندر کلکرنی نے جسونت سنگھ کی کتاب منظر عام پر آنے کے بعد انہیں پارٹی سے نکالے جانے پر جسونت سنگھ کی حمایت کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ جسونت سنگھ کو پارٹی سے نکالے جانے کے فیصلے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
انکا کہنا ہے کہ جسونت سنگھ کے خلاف جو کاروائی کی گئی ہے وہ غیر ضروری ہے۔
گزشتہ روز انگریزی اخبار ’ دا انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ہوئے ایک آرٹیکل میں سدھیندر کلکرنی نے لکھا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس فیصلے سے عوام کے درمیان پارٹی کا امیج خراب ہوا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی جسے ’پارٹی ود ڈفرینس‘ کہا جاتا ہے اس میں ’ڈفرنسز‘ یعنی اختلافات زیادہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ حال ہی میں جسونت سنگھ کی نئی کتاب ’جناح، بھارت، تقسیم، آزادی‘ ،جس میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ جناح ایک سیکولر شخصیت تھے اور تقسیم ہند کے ذمہ دار کانگریس پارٹی اور جواہر لال نہرو تھے، کے شائع ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے جسونت سنگھ کو پارٹی سے نکال دیا ہے اور گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی حکومت نے کتاب پر پابندی عائد کردی ہے۔



















