آر ایس ایس کے سابق سربراہ جناح کے مداح

کے سدرشن
،تصویر کا کیپشنکے سودرشن نے جسونت سنگھ کے نظریات کی دبے الفاظ میں حمایت کی ہے

ہندوستان میں سخت گير ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے سابق سربراہ کے سدرشن نے بھی بانی پاکستان محمد علی جناح کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ ’ وہ قوم پرست تھے۔‘

ادھر اطلاعات کے مطابق جسونت سنگھ جناح پر اپنی نئی کتاب کی تشہیر کے لیے پاکستان جانے والے ہیں۔

اندور میں کے سودرشن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محمد علی جناح وطن پرست تھے لیکن بعد میں وہ ناراض ہوگئے تھے اور انگریزوں نے ان کے ذہن میں تفریق کے بیج بو دیے تھے۔

کے سدرشن سے جب یہ پو چھا گیا کہ کیا جناح سیکولر تھے تو ان کا کہنا تھا ’جناح کے مختلف روپ تھے۔ اگر آپ تاریخ کو صحیح طریقہ سے پڑھیں تو وہ تلک جیسے رہنما کے ساتھ تھے اور متحد بھارت کے حق میں تھے۔ اگر مہاتماگاندھی نے تقسیم نہ ہونے پر زور دیا ہوتا تو ملک تقسیم نہ ہو پاتا‘۔

مسٹر سدرشن نے یہ بھی کہا کہ محمد علی جناح نے سیاست کو مذہب سے الگ رکھنے کی بات کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’گاندھی جی نے خلافت موومنٹ شروع کیا تھا لیکن جناح نے اس کی یہ کہہ کر مخالفت کی تھی کہ اگر ترکی میں خلافت کو تاراج کردیا گیا تو بھارت کو اس سے کیا لینا دینا‘۔

تاہم جب کے سودرشن سے جسونت سنگھ کو بی جے پی سے نکالنے کے بارے میں پو چھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔

بھارت کے سابق مرکزی وزیر جسونت سنگھ نے حال ہی میں اپنی نئی کتاب میں لکھا ہے کہ تقسیم ہند کے اصل ذمہ داروں میں پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل بھی تھے اس لیے تقسیم کے لیے صرف جناح کو ذمہ دار نہ مانا جائے۔ جسونت سنگھ کو انہی خیالات کی پاداش میں پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ لیکن ان کی کتاب بہت مقبول ہورہی ہے اور اطلاعات کے مطابق اس کتاب کی تشہیر کے لیے وہ پاکستان جانے والے ہیں۔ اخبار ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق پہلے وہ اسلام آباد اور پھر کراچی جائیں گے۔