’پوکھرن ٹیسٹ کامیاب نہیں تھے‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبھارت نے پوکھرن میں پانچ جوہری دھماکے کیے تھے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

ایک سرکردہ بھارتی سائنسدان نے کہا ہے کہ مئی انیس سو اٹھانوے میں پوکھرن میں جو جوہری آزمائشی دھماکے کیے گئے تھے، وہ حکومتی دعووں کے بر عکس پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ اپنے دفاعی جوہری پروگرام کو بہتر بنانے کے لیے بھارت کو مزید آزمائشی دھماکے کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارت میں دفاعی تحقیق و ترقی کے ادارے ڈی آر ڈی او کے سینیئر سائنسدان کے سنتھانم آزمائشی جوہری دھماکوں کے وقت پوکھرن میں موجود تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’ تھرمونیوکلیر’ یا ہا ئیڈروجن بم کے دھماکوں کی شدت سائنسدانوں کی توقعات سے کہیں کم تھی۔

اس وقت ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت تھی اور انہیں دھماکوں کے بعد پاکستان نے بھی زبر دست بین الاقوامی دباؤ کے باوجود جوابی آزمائشی دھماکے کیے تھے۔

آزمائش کے وقت پوکھرن میں سابق صدر اے پی جے عبدالکلام اور اس وقت کے قومی سلامتی کے صلاح کار برجیش مشرا بھی موجود تھے۔عبدالکلام ڈی آر ڈی او کے سربراہ رہ چکے ہیں اور اس وقت سائنسی امور پر وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے مشیر تھے۔

لیکن برجیش مشرا نے کے سنتھانم کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیسٹ پوری طرح کامیاب رہا تھا اور کلام نے اس کی تصدیق بھی کی تھی۔

اسی نوعیت کے دعوے اس وقت غیر ملکی اداروں نے بھی کیے تھے جو اپنے انتہائی حساس آلات سے زیر زمین دھماکوں کی شدت کافی باریکی سے ناپنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ آلات زلزلوں کی شدت ناپنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

سینیر جوہری سائنسدان آر آر سبرامنیم نے کہا کہ کے سنتھانم کا دعوی قابل یقین ہے۔’ انہیں حقیقت کا علم ہوگا کیونکہ وہ اس پورے عمل میں شامل تھے اور ٹیسٹ کے وقت وہاں موجود تھے۔’

انہیں جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے جوہری سائنسدان گوپال کرشنا نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اس وقت بھی ماہرین کو یہ ماننے میں کافی دشواری ہوئی تھی کہ پہلا ہی آزمائشی دھماکہ چالیس کلوٹن کا تھا۔ ’ اس وقت بھی کہا گیا تھا کہ ٹیسٹ اگر اتنا کامیاب رہا ہے تو یہ ایک غیرمعمولی کامیابی ہے۔’

بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمیرل سریش مہتا نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت کے پاس بھرپور دفاعی جوہری صلاحیت موجود ہے اور یہ کہ پوکھرن دھماکے پوری طرح کامیاب تھے۔

’ہم جوہری سائنسدانوں پر اعتماد کرتے ہیں کیونکہ وہ ہی ہمیں جوہری صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔’

لیکن سنتھانم کے بیان سے آزمائشی دھماکوں کی کامیابی پر بحث دوبارہ شروع ہوگئی ہے کیونکہ حکومت یہ دعوے کرتی رہی ہے کہ اب اسے مزید جوہری آزمائشی دھماکےکرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اس کا براہ راست تعلق اس بات سے بھی ہے کہ آیا حکومت کو آزمائشی دھماکوں پر پابندی کے معاہدے سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے چاہئیں یا نہیں۔

کے سنتھانم نے ایک انگریزی روزنامہ کو بتایا کہ ’ دنیا بھر کے ماہرین کی رائے اور ریختر پیمانے سے حاصل اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہے کہ ہائیڈروجن بم کی شدت اتنی نہیں تھی جتنا کہ دعوی کیا گیا تھا۔ اور اسی لیےمیں یہ کہہ رہا ہوں کہ ہندوستان کو سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے میں جلدبازی نہیں کرنی چاہیے۔’

حکومتی سائنسدانوں کا دعوی تھا کہ آزمائشی دھماکے کی شدت پینتالیس کلوٹن تھی لیکن سنتھانم اور دیگر ماہرین کہتے ہیں کہ یہ دھماکہ بیس کلو ٹن سے زیادہ نہیں تھا۔

ہندوستان نے پوکھرن میں گیارہ اور تیرہ مئی انیس سو اٹھانوے کو پانچ جوہری آزمائشی دھماکے کیے تھے اور اس پورے عمل کی ذمہ داری ڈی آر ڈی او نے سنبھالی تھی۔ ان دھماکوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے خلاف عالمی برادری نے تعزیری پابندیاں عائد کر دی تھیں جو کئی برسوں تک جاری رہیں۔