انڈيا کی پہلی جوہری آبدوز
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

ہندوستان نے اپنی ٹیکنالوجی سے بنی ہوئی پہلی جوہری آبدوز اتوار کو سمندر میں اتار دی ہے ۔ یہ آبدوز جوہری میزائلوں سے لیس ہے اور سمندر کی گہرائیوں سے اپنے ہدف پر نشانہ لینے کی جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے۔
’اریہنت‘ نامی یہ آبدوز ایٹمی ری ایکٹر سے چلتی ہے اور اس کی سمندر کی سطح سے زیر آب جانے کی رفتار بہت تیز ہے۔
اریہنت آبدوز تقریباً دو برس تک مختلف تجرباتی مراحل سے گزرے گی اور اسے باضابطہ طور پر 2011 میں ہندوستانی بحریہ میں شامل کیا جائے گا۔ اسی طرح کی دو مزید جوہری آبدوزیں 2015 تک تیار کیے جانے کا منصوبہ ہے۔
یہ آبدوز روس کی ’چارلی-1‘ آبدوز کی ساخت پر بنائی گئی ہے اور یہ جوہری میزائل سے حملے کرنے اور جوابی حملے کر سکتی ہے۔
اس کی لمبائی 104 میٹر ہے اوراس کی رفتارپجپن کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس آبدوز سے سو میٹر کی گہرائی سے مزائل فائر کیے جا سکتے ہیں ۔ اریہنت پانی کے نیچے سوسے زیا دہ دنوں تک رہ سکتی ہے ۔ اسے پیغام سرانی کے لیے بھی پانی کی اوپری سطح نہیں آنا پڑے گا۔ اس پر 80 میگا واٹ کا جوہری ری ایکٹر لگا ہوا ہے ۔
اریہنت وشاکھا پٹنم کے بحری اڈے پر تیار کی گئی ہے اور اس کی تیاری میں ایک عشرے سے زیادہ عرصہ لگا ہے ۔ اس آبدوز کے سمردر میں اترنے کے ساتھ ہندوستان ان دیگر پانچ ملکوں کی صفوں میں شامل ہو گیا ہے جن کے پاس جوہری توانائی کی ٹکنولوجی سے چلنے والی آبدوزیں ہیں ۔ یہ ٹکنولوجی اب تک صرف امریکہ روس ، برطانیہ ، فرانس اور چین کے پاس تھی ۔ اس ساخت کی آبدوزوں کا پتہ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے ـ
اپنی ٹکنولوجی سے جوہری آبدوز بنانے کے ساتھ ہندوستان کی اپنی بحریہ کی جدید کاری کا عمل کافی تیز ہو جائے گا ۔ ہندوستان کے پاس پہلے سے 16 آبدوزین ہیں جو ڈیزل سے چلتی ہیں۔ یہ آبدوزیں روس اور جرمنی سے حاصل کی گئی تھیں اور ان میں سے بیشتر پچیس برس سے زیادہ پرانی ہیں۔ اس نوعیت کی آبدوزیں جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں تقریباً بے اثر ہو چکی ہیں۔
ہنوستانی بحریہ کو اس برس کے آخر میں روس سے ایک جوہری آبدوز اکولا – 2 حاصل ہو گی جو اس وقت روس میں تجرباتی مراحل سے گزر رہی ہے ۔ ہندوستان نے اسے دس برس کی لیز پر حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ جنوب کے ایک دیگر بحری اڈے مزگاؤں میں فرانسیسی ساخت کے چھ ڈیزل الکٹرک ’اسکورپین‘ آبدوویں بھی تعمیر کے مراحل میں ہیں ۔ پہلی اسکورپین آبدوز 2012 تک بحریہ کو ملنے کی امید ہے۔ سبھی چھ آبوزیں 2018 تک بحریہ کے لیے تیار ہو جائیں گی ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جوہری آبدوزوں کی شمولیت سے خطے میں ہندوستانی بحریہ کی پوزیشن بہت مضبوط ہو جائے گي۔ ہندوستان بحر ہند میں اپنی بحری طاقت کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ بحریہ کی جدید کاری کے عمل میں اس کی نظر روایتی حریف پاکستان پر نیں بلکہ چین پر ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے بحری بالا دستی کے اس عمل میں پاکستان کہیں نہیں آتا۔





















