’دہشتگردی کے استعمال کا رویہ بدلیں‘

منموہن زرداری
،تصویر کا کیپشناس سے قبل دونوں رہنماؤں نے بات چیت جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا

ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ رشتے بہتر کرنا چاہتا ہے لیکن پاکستان کو سرکاری پالیسی کے تحت دہشتگردی کے استعمال کا اپنا پرانہ رویہ بدلنا ہوگا۔

بھارتی وزیراعظم نے امریکہ کے شہر پٹسبرگ میں یہ بیان ایک پریس کانفرنس میں ایسے وقت دیا ہے جب اتوار کو اقوام متحد کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھارت اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ہونے والی ہے۔

ادھر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہم بھارت کے ساتھ تمام مسائل کا حل امن سے چاہتے ہیں۔ جنوبی ایشاء میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کشمیر کے تنازعہ پر ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے‘۔

پٹسبرگ میں جی ٹوئنٹی ممالک کے اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے سوالوں کے جواب میں کہا ’بھارت کا پیغام بہت ہی واضح ہے۔ وہ پاکستان کے ساتھ رشتے بحال کرنا چاہتا ہے۔ اس میں مشکل یہی ہے کہ پاکستان سرکاری پالیسی کے تحت دہشتگردی کے استعمال کے پرانے رویہ کو تبدیل کرے‘۔

منموہن سنگھ نے اس موقع پر پھر دہرایا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ممبئی حملوں میں ملوث مجرموں کو سزا دلائے۔

'' ہمیں امید ہے کہ ہم نے پاکستان کو ممبئی حملوں کے متعلق جو مواد فراہم کیا ہے اس کی بنیاد پر اس کی تفتیش ہو کیونکہ حادثہ تو بھارت میں ہوا تھا لیکن اس کی سازش پاکستان میں ہوئی تھی اور پاکستان اسے تسلیم بھی کرچکا ہے۔''

مسٹر سنگھ کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جامع مذاکرات کی شروعات سے پہلے پاکستان کو حافظ سعید پر مقدمہ چلانا چاہیے۔