کشمیر: نوکریوں، تنخواہ پر ہڑتال

کشمیر ہڑتال(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنکپوارہ سے تعلق رکھنے والے حکمران جماعت اور اپوزیشن کے اسمبلی ممبران نوکریوں کے مطالبے پر متحد ہوگئے ہیں۔
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

ہندوستان کے زیر اتنظام کشمیر میں گزشتہ بیس سال کے دوران پہلی بار ہندنواز اسمبلی ممبروں کی کال پر ایک ضلع میں ہڑتال کی جارہی ہے اور لوگ مظاہرے کررہے ہیں۔

سوموار کو شمالی ضلع کپوارہ میں ہڑتال کے باعث عام زندگی معطل رہی اور نوجوانوں کی ٹولیوں نے حکومت مخالف مظاہرے کئے۔

ہڑتال کی یہ کال سرکاری نوکریوں میں ضلع کے ساتھ امیتاز برتنے کے خلاف کی جارہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب اسمبلی ممبروں نے اپنے مطالبات کو منوانے کے لئے ایوان سے باہر مظاہروں اور ہڑتال کا سہارا لیا ہے۔ اس سے قبل ہڑتال یا مظاہروں کی کال علیٰحدگی پسند گروپ دیا کرتے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ کپوارہ سے تعلق رکھنے والے حکمران جماعت اور اپوزیشن کے اسمبلی ممبران نوکریوں کے مطالبے پر متحد ہوگئے ہیں۔

کپوارہ کے لوگ دراصل سرکاری نوکریوں میں ضلع کے لئے مشتہر کی جانے والی اسامیوں کے لئے پورے جموں کشمیر صوبے کے امیدواروں کو درخواست دینے کی نئی حکومتی پالیسی کے خلاف ہیں۔

اپوزیشن پی ڈی پی کے ممبر اسمبلی عبدالحق خان اور حکمران نیشنل کانفرنس کے سیف اللہ میر کا کہنا ہے : 'کپوارہ ویسے ہی بہت مصیبت زدہ ضلع ہے۔ یہاں لوگوں نے ساٹھ سال سے مصائب دیکھے ہیں۔ جموں کشمیر میں تشدد کے باعث بیوہ ہونے والی عورتوں کی سب سے زیادہ تعداد کپوارہ میں ہے، سب سے زیادہ یتیم بچے بھی کپوارہ کے ہی رہنے والے ہیں۔ سیکورٹی کے حوالے سے بھی یہ ضلع حساس ہے۔ نوکریوں کے ڈسٹرکٹ کی بجائے سٹیٹ کیڈر میں شامل کرنا یہاں کے لوگوں کی شہ رگ پر لات رکھنے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔'

حکومت نے اس معاملے میں خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ ناراض ممبران اسمبلی اس خدشہ کا اظہار کرتے ہیں کہ جموں اور دوسرے پرامن خطوں سے لوگ آکر ضلع میں نوکری حاصل کرینگے اور ضلع کے پڑھے لکھے نوجوان دوبارہ تشدد پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔

یہ پوچھنے پر کہ اسمبلی میں یہ معاملہ اُٹھانے کی بجائے ممبران نے علیٰحدگی پسندوں کی طرز کیوں اپنائی، آزاد ممبراسمبلی انجینئر رشید نے بتایا: ’ہم نے اسمبلی میں اس حوالے سے بل پیش کیا تھا، لیکن اس پر سیرحاصل بحث تک نہیں ہوئی۔ ہمارے نزدیک یہی راستہ بچا تھا۔‘

اِدھر سرینگر کے تمام ہسپتالوں میں سوموار کوتقریباً چار ہزار جونئیر ڈاکٹروں نے ہڑتال کردی جسکے باعث صحت کی خدمات معطل ہوگئیں۔ ہڑتالی ڈاکٹرتنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ کررہے ہیں۔ تاہم حکومت نے سینئر ڈاکٹروں کو کام لگا کر ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کیا ہے۔

سرینگر کے مرکزی طبی ادارہ سری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے ڈاکٹر سلیم نے بتایا: 'حکومت اس اہم معاملے میں تغافل سے کام لے رہی ہے۔ ملک کے دوسرے ہسپتالوں میں پی جی ڈاکٹروں کو پچاس ہزار روپے تک کی تنخواہ ملتی ہے اور ہمیں صرف نوہزار سے گیارہ ہزار کے بیچ تنخواہ ملتی ہے۔ ہم اس تفاوت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔'

اس دوران سفری سہولات کے سرکارہ ادارہ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے پانچ ہزار ملازمیں پچھلے تین ماہ سے ہڑتال پر ہیں۔