ڈیوڈ ہیڈلی کا’راہول‘ مہیش بھٹ کا بیٹا

ہیڈلی اور پاکستانی نژاد کینیڈیئن شہری تہور حسین رانا پر الزام ہے کہ وہ ڈینمارک کے ایک اخبار پر بم حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے
،تصویر کا کیپشنہیڈلی اور پاکستانی نژاد کینیڈیئن شہری تہور حسین رانا پر الزام ہے کہ وہ ڈینمارک کے ایک اخبار پر بم حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے

تفیشی ایجنسیوں کو ممبئی میں امریکی شہری ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کے جس ممبئی دوست راہول کی تلاش تھی وہ دراصل فلمساز مہیش بھٹ کا اپنا بیٹا راہول بھٹ ہے۔

راہول کا نام ہیڈلی سے تفتیش اور اس کے ای میل کی جانچ کے بعد سامنے آیا تھا۔ ہیڈلی اور ان کے پاکستانی نژاد کینیڈیئن شہری دوست تہور رانا کو امریکی تفتیشی ایجنسی فیڈرل بیورو آف انوسٹیگیشن نے گزشتہ ماہ اٹھارہ اکتوبر کو شکاگو سے گرفتار کیا تھا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ڈنمارک اور انڈیا میں دہشت گرد حملے کے منصوبے تیار کر رہے تھے۔

ممبئی پولیس کے اعلی افسران اس کیس میں بالکل خاموش ہیں۔ کسی بھی افسر نے آن ریکارڈ بات کرنے سے انکار کر دیا لیکن پولیس کے باوثوق ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق راہول نے مبینہ طور پر پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ اس کی اور ہیڈلی کی ملاقات ممبئی کی ایک ورزش گاہ ( جِم ) میں ہوئی تھی۔ دونوں اسی دوران دوست بن گئے تھے۔ پولیس افسر کے مطابق راہول کو ہیڈلی کے لشکر طیبہ کے رکن ہونے کے بارے میں پتہ نہیں تھا اور نہ ہی اس کے اس طرح کے پس منظر سے وہ واقف تھا۔ پولیس نے راہول سے تفتیش کے بعد انہیں کلین چِٹ دے دی ہے۔

راہول کے والد اور فلمساز مہیش بھٹ نے اس سلسلے میں کچھ بھی کہنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ یہ ایک بہت ہی حساس معاملہ ہے اور وہ اس میں کچھ بھی کہنا نہیں چاہتے لیکن راہول کے چچا اور فلمساز مکیش بھٹ نے کہا کہ جب راہول کو پتہ لگا کہ امریکی تفتیشی ایجنسی نے جس ہیڈلی کو گرفتار کیا ہے وہ اس کا دوست ہے تو وہ خود پولیس کے پاس گئے اور انہوں نے پولیس کی مدد کی۔

پولیس ذرائع کے مطابق ہیڈلی سن دو ہزار چھ سے دو ہزار نو کے درمیان متعدد مرتبہ ممبئی آ چکے تھے۔ پولیس کے مطابق جنوبی ممبئی کے تاڑدیو علاقے میں انہوں نے ’فرسٹ ورلڈ امیگریشن سروسیز ‘ کے نام سے دفتر قائم کیا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ انہوں نے اس سروس کو محض دکھاوے کے لیے شروع کیا تھا تاکہ انڈیا میں ان کے آنے کی وجوہات بن سکیں اور کسی کو شک و شبہ بھی نہ ہو۔

ہیڈلی کے دفتر میں کام کرنے والی ادھیڑ عمر پارسی خاتون سے بھی پولیس تفتیش کر چکی ہے۔

پولیس کے مطابق وہ ہیڈلی کے ممبئی میں قیام کی تفصیلات جمع کر رہی ہے۔ البتہ پولیس اس بات پر خاموش ہے کہ ہیڈلی کے چھبیس نومبر کے ممبئی حملوں سے کسی طرح کے تار جڑے ہیں یا نہیں۔