مہنگائی کا مسئلہ، بہار میں ہڑتال

ہندوستان کے سابق ریلوے وزیر لالو پرساد یادو کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل اور رام ولاس پاسون کی لوک جن شکتی پارٹی کی اپیل پر بھارتی ریاست بہار میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔
ان دونوں رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ مختلف مقامات پر عوامی اجتماعات منعقد کریں اور مشعل بردار جلوس نکال کر مہنگائی کے خلاف مظاہرے کریں۔
ہڑتال کے سبب پٹنہ میں بیشتر دوکانیں بند رہیں اور سڑک ٹرانسپورٹ بری طرح متاثر ہوا جس سے عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔
راشٹریہ جنتا دل پارٹی کے کارکنان نے پوری ریاست میں جلوس نکال کر دکانیں بند کرائی اور پہیہ جام کیا۔ کئی مقامات سے راشٹریہ جنتا دل کے کارکنان کی گرفتاری کی بھی خبریں ہیں۔
لالو پرساد یادو نے ریاستی دارلحکومت پٹنہ کے ڈاک بنگلہ چوہراے میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب عوام کا نعرہ ’روکو مہنگائی، باندھو دام، نہیں تو ہوگا چکا جام‘ ہے۔اس خطاب کے بعد پولیس نے لالو پرساد یادو اور ان کی اہلیہ رابڑی دیوی کو گرفتار کر لیا۔
ادھر بہار کے وزیراعلی نتیش کمار نے کہا ہے کہ ہڑتال کرکے لالو پرساد یادو اور رام ولاس پاسوان مرکز میں کانگریس حکومت کا دفاع کرنا چاہتے ہیں۔
جبکہ لالو پرساد یادو اور رام ولاس پاسوان کا کہنا ہے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے لیے وہ ریاستی اور مرکزی حکومت دونوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ لالو پرساد یادو نے الزام لگایا ہے کہ حکومتیں مہنگائی کم کرنے کے لیے صحیح اقدامات نہیں کررہی ہیں۔
واضح رہے کہ ہندوستان میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں گزشتہ ایک برس میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور دالوں، چینی اور گوشت کی قیمتی گزشتہ ایک برس میں سو فی صد تک بڑھ گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مہنگائی کے مسئلے پر حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بار بار کانگریس کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی مہنگائی پر قابو پانے میں کامیاب ہوگی۔تاہم حکومت کی جانب سے یقین دہانی کے باوجود بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں درج کی گئی ہے۔




















