ماؤ نواز باغی مشروط بات چيت پر تیار

<crosshead>بھارت میں ماؤ نواز باغیوں نے مرکز کے مذاکرات کی تجویز پر کہا ہے کہ بعض شرائط کے ساتھ وہ حکومت کے ساتھ بات چيت کے لیے تیار ہیں۔</crosshead> وزیرِ داخلہ پی چدامبرم نے منگل کے روز کہا تھا کہ اگر نکسلی ہتھیار چھوڑ دیں تو ان کے ساتھ بات کی جا سکتی ہے۔
ماؤ نوازوں کے عکسری شعبے کے سربراہ کشن جی نے بی بی سی کو فون پر بتایا ہے کہ ان کی پارٹی حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن ان کے پولٹ بیورو کے ارکان کو پہلے حکومت رہا کر دے۔
انہوں نے کہا ’ہماری دو شرائط ہیں، پولٹ بیورو کے ہمارے چار رہنماوں باڈ گاندھی، امیتابھ بگچی، نارائن سانیال اور سوشیل رائے کو چھوڑا جائے کیونکہ حکومت کے ساتھ بات چیت میں وہی نکسلیوں کی نمائندگي کر یں گے۔ اس کے ساتھ حکومت’ آپریشن گرین ہنٹ ‘بھی بند کرے۔‘
کشن جی نے کہاکہ جب تک حکومت کی نکسل مخالف مہم جاری ہے اس وقت تک سرکار کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں ہے۔
مرکزی حکومت کی مدد سے نکسل سے متاثرہ کئی ریاستوں میں آپریشن گرین ہنٹ شروع کیا جا چکا ہے جس کا مقصد نکسلیوں کا صفایا کرنا ہے۔
اسی سلسلے میں ایک اجلاس سے قبل وزیرِ داخلہ پی چدمبرم نے کہا تھا کہ ماؤ نواز باغی اگر تشدد کا راستہ ترک کردیں تو حکومت ان سے بات چیت کرنے کو تیار ہے لیکن ملک کی کئی ریاستوں میں نکسلوادیوں کے خلاف جاری نیم فوجی دستوں کی کارروائی فی الحال نہیں روکی جائے گی۔
وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا تھا کہ ماؤ نواز باغیوں کے خلاف جاری مہم میں سست رفتار سے ہی صحیح لیکن مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے اور آنے والے وقت میں نکسلیوں کے قبضے والے علاقوں پر ریاستی حکومتوں کی رٹ بحال ہو جائے گی۔
ُادھر بدھ کے روز نکسلیوں نے ریاست اڑیسہ میں دھماکے سے ریل کی پٹری کو ایک بار پھر اڑا دیا ہے۔ گزشتہ چند روز ميں کئی مقامات ماؤ نوازوں نے حملہ کیا ہے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















