مودی کی طلبی سے کیا ہوگا؟

نریندر مودی
،تصویر کا کیپشنگجرات کے وزیراعلی فسادات میں اپنے کردار کے سبب ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں
    • مصنف, صلاح الدین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

گجرات فسادات کی تفتیش کے لیے سپریم کورٹ کی خصوصی ٹیم نے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو طلب کرلیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کے دور رس اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں؟

اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ سپیشل انوسٹیگیٹیو ٹیم (ایس آئی ٹی) نے نریندر مودی کو گلبرگ سوسائٹی کے قتل عام کے معاملے میں احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کی عرضی پر پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔

اس معاملے میں ذکیہ جعفری کے وکیل مُکل سنہا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلہ کو بہت اہم قدم نہیں مانتے ہیں۔ ’اس معاملے کی لارجر سازش کی نہ تو تفتیش ہوئی اور نہ ہوم ورک کیا گیا ہے۔ تو پھر اہم سوال یہ ہے کہ ان سے پوچھ گچھ کرنے سے فائدہ کیا ہوگا؟‘

مُکل سنہا کے مطابق وزیر اعلیٰ اس معاملے میں یا اس کی سازش میں براہِ راست تو شامل نہیں تھے اس لیے جب تک فسادات کی ’مجموعی سازش اور انتظامیہ کی ناکامی کی تفتیش نہیں ہوتی اس وقت تک وزیراعلیٰ سے پوچھ گچھ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘

معروف سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ جنہوں نے گجرات فسادات کے حوالے سے کافی کام کیا ہے، کہتی ہیں کہ یہ ایک بہت چھوٹا قدم ہے مگر آگے بڑھا ہے۔ ’لیکن مودی کے خلاف ایف آئی آر درج کیے بغیر اس طرح کی پوچھ گچھ سے کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قانونی حیثیت ہے، اس لیے پہلے ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔‘

احسان جعفری کے بیٹے تنویر جعفری نے بھی بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ ایس آئی ٹی کا سمن صرف ایک ابتداء ہے ’ہمارا مطالبہ ہے کہ نریندر مودی کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ وزیراعلی کا فسادات میں اہم رول تھا۔‘ احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے ’ہمیں امید ہے کہ اللہ سے، عدالت سے اور یہاں کی عوام سے انصاف ملےگا۔‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنفسادات کے دوران مارے گئے بیشتر لوگ مسلمان تھے

گجرات کی ریاستی حکومت کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ایس آئی ٹی کے ساتھ تعاون کرے گی۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ مسٹر مودی ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے یا نہیں۔

وکیل مکل سنہا کہتے ہیں کہ اگر فسادات میں نریندر مودی کے کردار کی چھان بین کرنی ہے اور انہیں جوابدہ ٹھہرانا ہے تو تین پہلوؤں کی تفتیش ضروری ہے اور تبھی ان کے رول کا انکشاف ہوسکے گا۔

بقول سہنا ’اس بات کی تفتیش ہو کہ آخر فسادات کے دوارن انتظامیہ ناکام کیوں ہوئی، کیا یہ ایک سازش تھی یا پھر قدرتی طور پر ایسا ہوا؟ اگر جان بوجھ کر ایسا کیا گیا تو کیا یہ ایک کرمنل ایکٹ تھا؟ اور پھر قتل عام کے بڑے واقعات کی تفتیش ہو کہ آخر ان کی منصوبہ بندی کیسے ہوئي تھی۔‘

مسٹر سنہا کے مطابق کسی بھی تفتیشی کمیشن نے اس پہلو پر بات ہی نہیں کی ہے ورنہ فسادات میں مودی کے رول کی نشاندہی بہت آسان ہو جاتی۔

ایک سوال کے جواب میں تیستا سیتلواڈ نے کہا کہ ایس آئی ٹی کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں جو کیس درج کیا ہے اس کی سماعت پیر کو ہونے والی ہے اس لیے مودی کی طلبی کے اگے ایک بڑا سوالیہ نشان نظر آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ٹیم کے سربراہ آر کے راگھون نے عدالت کو بتایا ہے کہ احسان جعفری کے فون کے ریکارڈ مٹادیے گئے ہیں اب اس کی تفتیش کون کریگا کہ وہ ریکارڈ کس نے غائب کیے؟ پولیس کا ہاتھ ہے یا پھر سیاست کار فرما ہے؟ اس طرح کے بہت سے سوالات ہم نے ایس آئی ٹی کے خلاف اٹھائے ہیں‘۔

ادھر اس معاملے پر جمعہ کو گجرات کی اسمبلی میں بھی ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ ناناوتی کمیشن نے مودی کو تفتیش کے لیے کیوں نہیں طلب کیا تھا۔ ناناوتی کمیشن کو بی جے پی کی حکومت نے فسادات کی تفتیش کے لیے مقرر کیا تھا اور اس کمیشن نے اب تک اپنی رپورٹ نہیں دی ہے۔

ایس آئی ٹی کو سپریم کورٹ نے مقرر کیا تھا جس کے متعلق کہا جارہا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ اپریل کے اختتام تک سپریم کورٹ کو پیش کردے گی۔

احمد آباد کی گلبرگ رہائشی سوسائٹی میں اٹھائیس فروری کو بلوائیوں نے سابق رکن پارلمیان احسان جعفری سمیت تقریباً ستر افراد کو قتل کر دیا تھا۔