گجرات فسادات، مودی اکیس مارچ کو طلب
گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو سال دو ہزار دو میں ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے طلب کیا ہے۔
اس ٹیم کو بھارت کی سپریم کورٹ نے تشکیل دیا تھا اور ٹیم نے نریندر مودی کو اکیس مارچ کو طلب کیا ہے۔
اس ٹیم کے سربراہ آر کے راگھون نے بی بی سی سے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے ’ہم نے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو طلب کیا ہے اور اب تک جو بھی ثبوت ہمیں ملے ہیں اس کی بنیاد پر ان سے سوالات کیے جائيں گے۔‘
مسٹر راگھون نے یہ بھی بتایا کہ گجرات کے وزير اعلیٰ کو کانگریس کے سابق رکن پارلیمان احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔
ذکیہ گلبرگ سوسائٹی سانحہ کی چشم دید گواہ ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات ميں گلبرگ سوسائٹی میں 69 افراد ہلاک ہوئے تھے جس ميں احسان جعفری بھی شامل تھے۔
گجرات کے فسادات کے متاثرہ کے لیے کام کرنے والی کارکن تیستا سیتلواڑ نے بی بی سی سے بات چیت میں تحقیقاتی ٹیم کے فیصلے کا خیر مقدم تو کیا ہے ساتھ ہی یہ بھی امید ظاہر کی ہے کہ تحقیقاتی ٹیم صرف نریندر مودی کو طلب کر کے چپ نہ ہو جائے۔
سنہ 2002 میں گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس ٹرین میں آگ لگنے کے سبب 59 ہندو مارے گئے تھے جس کے بعد گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے۔ سرکاری اعددو شمار کے مطابق ان فسادات میں ایک ہزار سے زائد لوگ مارے گئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

















