سازش کیس:بائیس ملزمان کی رہائی کا حکم

جیل(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنرہا کیے گئے افراد میں سے چودہ کا تعلق حیدرآباد سے ہے
    • مصنف, عمر فاروق
    • عہدہ, بی بی سی ، حیدرآباد

ہندوستان کی ریاست گجرات کے شہر احمدآباد کی ایک خصوصی پوٹا عدالت نے سنہ دو ہزار تین میں حکومت کے خلاف سازش رچنے کے الزام میں چوالیس میں سے بائیس ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

گجرات پولیس نے سنہ دو ہزار تین اور چار ميں سرکردہ مذہبی رہنما مولانہ نصیر الدین سمیت تیرہ دیگر نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان لوگوں کے انسداد دہشت گردی کے قانون ’ پوٹا‘ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا جس کے سبب ان لوگوں نے تقریبا چھ برس سابرمتی جیل میں گزارے تھے۔

گجرات پولیس نے ان لوگوں پر گودھرا تصادم کا انتقام لینے کے لیے ریاست کے خلاف سازش رچنے کا الزام عائد کیا تھا۔عدالت کے فیصلے پر مولانہ نصیر الدین کا کہنا تھا ’ میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ سچ کی جیت ہوئی ہے اور بے قصوروں کو رہائی ملی ہے۔‘

مولانہ نصیر الدین کو کئی برس کی لڑائی لڑنے کے بعد گذشتہ برس ستمبر میں ضمانت ملی تھی۔

مولانہ نصیر الدین کے خلاف گجرات کے وزیر داخلہ نریندر پانڈیہ کے قتل کی سازش رچنے کا مقدمہ جاری رہے گا۔ تاہم ان کے تین بیٹے بھی مختلف جیلوں ميں قید ہیں۔ ان پر شدت پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔