قصاب تمام الزامات میں قصوروار
- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی، ممبئی
ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچنے والے مجرم اجمل قصاب کو خصوصی عدالت نے قصوروار قرار دیا ہے۔

ممبئی حملوں کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے جج ایم ایل تہیلیانی نے اجمل امیر قصاب کو ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے ، دہشت گردی کی سازش کرنے، قتل اور اقدام قتل جیسے مختلف الزامات کے تحت مجرم قرار دیا ہے۔
عدالت نے اس مقدمے کے دو ہندستانی ملزمان فہیم انصاری اور صباح الدین صابر شیخ کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر تمام الزامات سے بری کر دیا۔ قصاب کی سزا کا تعین عدالت منگل کو کرے گی۔
قصاب کے لیے جج کا فیصلہ
جج تہیلیانی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جس انداز میں دس ملزمان کشتی میں بحری راستے کے ذریعے اے کے 47 رائفل ، بڑی مقدار میں اسلحہ، دھماکہ خیز اشیاء بم لے کر آئے، منصوبہ بند طریقے سے انہوں نے پہلے ہی وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول کی سروسز حاصل کی، جی پی ایس انسٹرومنٹ کا استعمال کیا، یہ سب یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کوئی معمولی جرم یا قتل کی سازش نہیں تھی بلکہ ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی کوشش تھی۔
جج نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ اوبیرائے ہوٹل اور ناریمان ہاؤس میں جس طرح حملہ آوروں سے فون پر دوسری جانب سے ہدایت مل رہی تھی وہ بھی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ملک میں جنگ جیسی صورتحال پیدا کر دی گئی تھی۔
حکومت کو حملہ آوروں سے مقابلہ کرنے کے لیے این ایس جی کمانڈوز کو بلانا پڑا۔ جج نے اس موقع پر ٹیلی فون پر ریکارڈ کی گئی گفتگو کو پڑھ کر بھی سنایا۔
جج تہیلیانی نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ سازش کا الزام ثابت کرنا بہت ہی مشکل امر ہوتا ہے کیونکہ اس کا عام طور پر کوئی عینی شاہد نہیں ہوتا لیکن اس کیس میں سازش کافی عرصہ پہلے سے بنائی جا رہی تھی اور ممبئی پر حملہ کرنے تک یہ سازش جاری رہی۔
قصاب نے پولیس حراست کے دوران ایڈیشنل چیف مجسٹریٹ آر وی ساونت واہولے کے سامنے جو اقبالیہ بیان دیا اس کے بیشتر حصے کو عدالت نے قبول کر لیا۔ جج نے جواز دیا کہ مجسٹریٹ نے ملزم کو پولیس دباؤ سے نکلنے کے لیے کافی وقت دیا تھا اس لیے یہ بیان آزادانہ بیان کہا جا سکتا ہے۔
جج نے سی ایس ٹی اور گرگام چوپاٹی پر ہونے والے سات قتل کے لیے قصاب کو براہ راست مجرم قرار دیا لیکن ساتھ ہی سی ایس ٹی ریلوے سٹیشن کے علاوہ شہر کے دیگر ان تمام مقامات پر جہاں حملے ہوئے تھے، عدالت نے قصاب کو قتل کا مجرم قرار دیا۔ عدالت کے مطابق قصاب قتل کے لیے اکسانے جیسے الزام کے تحت مجرم ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جج تہیلیانی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اشوک کامٹے کے بدن سے نکلی گولی قصاب کے ساتھی مجرم ابو اسماعیل کی رائفل سے نکلی تھی یہ بات بلسٹک رپورٹ سے ثابت ہوئی ہے لیکن جج نے اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے اور انسپکٹر وجے سالکر کے بدن میں لگی گولیوں کے بارے میں کہا کہ وہ یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ کس کی رائفل سے نکلی تھی۔ شاید دونوں مجرمین میں سے کسی ایک کی رائفل سے۔
سرکاری وکیل اجول نکم نے جج کے اس فیصلے پر کھڑے ہو کر سوال کیا کہ کیا عدالت قصاب کو ان کے قتل کا ذمہ دار مانتی ہے ؟ جج نے کہا’بالکل‘۔
جج نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ عدالت یہ ثابت نہیں کر سکی کہ حملہ آوروں کو ہدایت دینے والے کہاں تھے لیکن کشتی میں ملنے والے سامان اور واقعاتی شواہد کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس وقت پاکستان میں تھے اور وہیں سے ہدایت جاری تھیں۔
فہیم انصاری اور صباح الدین کے لیے جج کا فیصلہ
عدالت نے قصاب کا فیصلہ سنانے کے بعد فہیم انصاری اور صباح الدین کے بارے میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دونوں کے خلاف استغاثہ نے ثبوت اکٹھے نہیں کیے۔ جو ثبوت عدالت میں پیش کیے گیے ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔
استغاثہ کے کیس کے مطابق فہیم انصاری نے ممبئی کے ان مقامات کا ہاتھ سے نقشہ بنایا تھا جہاں حملے کیے جانے والے تھے اور یہ نقشہ انہوں نے نیپال جا کر دیا تھا۔اس کے لیے استغاثہ نے ایک گواہ پیش کیا تھا جس کی گواہی پر شبہ ظاہر کرتے وہئے عدالت نے کہا کہ انہیں تو شبہ ہے کہ گواہ کبھی نیپال گیا بھی ہو گا یا نہیں۔
قصاب عدالت میں
سفید کرتے پاجامے میں ملبوس اجمل قصاب پورا وقت اپنا سر جھکائے بیٹھے رہے۔ جج نے ان دونوں ملزمان کو بری کرنے کے بعد قصاب کو کھڑے رہنے کا حکم دیا۔
قصاب کو انہوں نے بتایا کہ ’عدالت نے تمھے خون کرنے اور پولیس اور سرکاری افسران کو مارنے کی سازش بنانے کا مجرم قرار دیا ہے۔’یہ ثابت ہو گیا کہ آپ نے مریدکے، مانسہرہ اور مظفرآباد میں تربیت لی۔ آپ نے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کا جرم کیا وہ ثابت ہو گیا ہے۔ آپ نے اسی سازش کے تحت سی ایس ٹی ریلوے سٹیشن ، کاما ہسپتال کے اندر اور باہر لوگوں کو قتل کیا یہ جرم ثابت ہو گیا ہے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے خون کیے اور لوگوں کو اکسایا یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے۔ آپ یہاں بغیر لائسنس اے کے فورٹی سیون لے کر آئے، کسٹم اور اسمگلنگ قانون کے تحت آپ مجرم ہیں۔ آپ نے دہشت گردانہ کارروائی کی‘۔
قصاب اس دوران بھی بالکل خاموش کھڑے رہے۔ جج نے انہیں واپس لے جانے کی ہدایت دی۔




















