ممبئی حملے: ’پاکستانی فوجی افسرملوث تھے‘

لشکر طیبہ کے کارکن ڈیوڈ ہیڈلی نے امریکہ کی ایک عدالت میں اپنے اعتراف جرم میں مبینہ طور پر بتایا ہے کہ ممبئی پر حملوں میں ایک ریٹائرد فوجی افسر کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج کے تین اعلٰی حاضر سروس افسر بھی ملوث تھے۔ یہ انکشاف ہندوستان کے سرکردہ جریدے ’آؤٹ لک‘ نے کیا ہے۔

ڈیوڈ ہیڈلی
،تصویر کا کیپشنڈیوڈ ہیڈلی نے ایف بی آئی سے ایک مفاہمت کے تحت اعترافِ جرم کیا ہے

’آؤٹ لک‘ کے مدیر ونود مہتہ نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا ہے کہ پاکستانی نژاد امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی نے عدالت کے سامنے جو بیان دیا ہے اس میں انہوں نے پاکستانی فوجی افسروں کی شناخت میجر سعید، میجر اقبال، میجر سمیر اور کرنل شاہ کے طور پر کی ہے۔

دوسری جانب پاکستان فوج کے ترجمان سے ردعمل جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا تھا کہ ایسی اطلاعات کے صحیح یا غلط ہونے کےبارے میں تفصیلات وزارت خارجہ کےپاس ہی ہو سکتی ہیں۔ جبکہ وزارت خارجہ کےترجمان سےکوششوں کے باوجود رابطہ نہ ہو سکا۔

مسٹر مہتہ نے ہیڈلی کے اقبالیہ بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ممبئی پر حملوں کے درمیان شدت پسندوں سے فون پر دوسری جانب سے بات کرنے اور انہیں ہدایت دینے والے شخص کی شناخت کرنل شاہ کے طور پر ہوئی ہے ۔ ابھی تک امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے ان افسروں کی شناخت اے بی سی اور ڈی کی طور پر کر رکھی تھی ۔

مسٹر مہتہ کا کہنا ہے کہ ’اس انکشاف سے یہ واضح ہے کہ ممبئی پر حملے میں پاکستان فوج براہ راست ملوث تھی۔‘

ممبئی حملے
،تصویر کا کیپشنہیڈلی نے مبینہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے ممبئی حملوں کے اہداف کی نشاندہی کی تھی

ڈیوڈ ہیڈلی نے ایف بی آئی سے ایک مفاہمت کے تحت اعتراف جرم کیا تھا ۔ اس مفاہمت کے تحت انہین نہ موت کی سزا نہیں دی جائے گی اور نہ ہی انہیں ہندوستان یا ڈنمارک کے حوالے کیا جائے گا۔ لیکن ہندوستانی تفتیش کاروں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ان سے پوچھ گچھ کی اجازت ہو گی ۔مسٹر ہیڈ لی نے شکاگو کی ایک عدالت میں ممبئی حملے اور پیغمبر اسلام کا کارٹون بنانے والے ڈینش کارٹونسٹ پر حملے کی سازش میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔

ایف بی آئی نے مسٹر ہیڈلی سے پوچھ گچھ کی اہم تفصیلات ہندوستان کو فراہم کی ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ ہندوستان کی وزارت داخلہ مسٹر ہیڈلی کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے آئندہ ہفتے ایک مجسٹریٹ امریکہ بھیج رہی ہے۔ لیکن مجسٹریٹ کو امریکہ کی وزارت انصاف کی طرف سے پوچھ گچھ کی اجازت ملنے کے بعد ہی بھیجا جائے گا۔