’حکومتِ پاکستان سےبات کرنی ہے‘

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی
ممبئی حملوں کے کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت میں ممبئی حملوں کے واحد زندہ ملزم اجمل امیر قصاب نے عدالت میں کہا کہ وہ حکومتِ پاکستان سے بات کرنا چاہتے ہیں اور اپنے بچاؤ کے لیے وہاں سے کچھ گواہان کو بھی طلب کرنا چاہتے ہیں۔
گزشتہ کچھ دنوں سے فوجداری ضابطہ قانون کی دفعہ تین سو تیرہ کے تحت قصاب سے سوال جواب کا سلسلہ جاری تھا۔ پیر کو اسی سلسلے میں قصاب کے بیان کے ریکارڈ کرنے کے آخری روز جج ایم ایل تہیلیانی نے قصاب سے پورے معاملہ میں اپنا بیان دینے کے لیے کہا۔
قصاب نے عدالت کے روبرو کہا کہ ا نہیں اس عدالت پر بھروسہ نہیں ہے۔ انہیں انصاف نہیں ملے گا۔ اس لیے ان کا مقدمہ عالمی عدالت میں چلایا جائے۔
قصاب نے جج سے کہا کہ وہ اپنے تحفظ میں حکومتِ پاکستان سے چند افسران کو بلانا چاہتے ہیں جو یہ گواہی دیں گے کہ وہ حملہ آور نہیں ہیں۔ قصاب سے جج نے ان لوگوں کے نام اور پتے پوچھے لیکن قصاب نے کہا کہ وہ اس موقع پر ان کے نام اور پتے نہیں بتا سکتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ اسی عدالت کے ذریعے حکومتِ پاکستان سے گفتگو کی جا سکتی ہے لیکن اس سے پہلے بھی آپ کی جانب سے عدالت نے تحریری درخواست کی تھی لیکن وہاں سے (پاکستان سے) کوئی جواب نہیں آیا۔اس پر قصاب کا کہنا تھا کہ یہ ان کا اپنا معاملہ ہے۔
عدالت نے کہا کہ پاکستان کے ایک نجی چینل نے ’آپ کےگھر والوں کا انٹرویو بھی دکھایا تھا کہ آپ ہی وہ شخص ہیں جنھیں انڈین پولیس نے گرفتار کیا تھا‘۔ اس کے جواب میں قصاب نے کہا کہ وہ (پاکستانی ٹی وی) سب بھی اسرائیل اور را کے کہنے پر کر ایسا رہے ہیں۔
قصاب کا دعویٰ ہے کہ سی ایس ٹی ریلوے سٹیشن پر فائرنگ کرتے جس شخص کو دکھایا گیا ہے وہ دراصل اس جیسا نظر آنے والا ابوعلی ہے جو سی ایس ٹی پر فائرنگ کے بعد تاج ہوٹل چلا گیا تھا جہاں وہ حملے میں ہلاک ہو گیا۔
قصاب نے ایک بار پھر عدالت میں کہا کہ انھیں ممبئی میں چھ نومبر کو گرفتار کر کے خفیہ ایجنسی ’را‘ نے انھیں ممبئی کرائم برانچ کے حوالے کر دیا تھا اور بعد میں پولیس حراست میں ان کے ہاتھ پر گولی ماری گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قصاب نے عدالت میں بیان ریکارڈ کرنے کے دوران کئی مرتبہ چونکا دینے والے بیانات دیے۔ انہوں نے عدالت میں کہا کہ پہلے ان کا جو بیان ریکارڈ کیا گیا تھا وہ انھوں نے پولیس اذیت کے بعد دیا تھا۔ اس کیس کی سماعت کے دوران دو مرتبہ انھوں نے آزادانہ طور پر اعترافِ جرم کیا تھا۔ اس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ بیان بھی انہوں نے پولیس کے دباؤ میں دیا تھا۔
بیان درج کرانے کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ممبئی حملوں میں چار حملہ آور ہندستانی تھے اور ان جیسا نظر آنے والا شخص ابوعلی کشمیری ہے۔ ’ایک حملہ آور گجرات سے ہے اور ابو اسماعیل، جسے پولیس نے گرگان چوپاٹی پر ہلاک کرنےکا دعویٰ کیا ہے وہ اور اس کا ایک ساتھی ’بمبئی‘ کا رہنے والا تھا‘۔
سرکاری وکیل اجول نکم نے قصاب کے روزانہ بدلتے بیان کو ’ڈرامہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ عدالت نے قصاب کی درخواست پر کہ اسے پاکستان سے گواہ بلانا ہے، قصاب کے وکیل پوار کو ایک دن کی مہلت دی ہے۔
نکم نے کہا کہ قصاب کے خلاف ’پختہ ثبوت‘ موجود ہیں اور ان کا یہ دعویٰ کہ انہیں چھ نومبر کو را نے پکڑا ’جھوٹ اور من گھڑت کہانی ہے‘۔




















