منی پور میں تشدد کے بعد کرفیو

منی پور میں سیکورٹی کی ایک فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنناگا قبائلی علیحدہ ریاست کا مطالبہ کررہے ہیں

ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں ناگا علیحدگی پسند رہنما کے داخلے پر پابندی عائد کرنے پر پرتشدد واقعات کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

نیشنل سوشلسٹ کاؤنسل آف ناگالینڈ( این ایس سی این) کے جنرل سیکرٹی تھوینگا لینگ مویوا پانچ مئی کو منی پور کے اکھرل ضلع میں واقع اپنے آبائی گاؤں کا دورہ کرنے والے تھے لیکن منی پور کی حکومت نے سکیورٹی خدشات کی بناء پر ان کے داخلے پر پابندی ‏عائد کر دی ہے۔

اس پابندی کی خبر عام ہونے کے بعد ناگا قبائلیوں نے سرحدی چیک پوسٹ پر کھڑی متعددگاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں کم از کم چھ ٹرکوں کو آگ لگائی گئی ہے جس کے بعد ریاست میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب ریاست کے ایک سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ ناگا اکثریت والے اضلاع میں الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

این ایس سی این علیحدہ ریاست قائم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے جس میں وہ منی پور، آسام اور اروناچل پردیش میں ناگا اکثریت والے خطے کو موجودہ ناگالینڈ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

ان علاقوں کی تمام اہم سیاسی جماعتیں این ایس سی این کے مطالبے کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ بظاہر ہندوستان کی حکومت نے مسٹر مویوا کے دورے کی اجازت دے دی تھی لیکن منی پور کی حکومت نے یہ کہ کر اسے روک دیا کہ انکے دورے سے تشدد بھڑک اٹھنے کے امکانات ہیں۔

گزشتہ ہفتے این ایس سی این نے انتخابات کو روکنے کے لیے ایک دن کی ہڑتال بھی کی تھی۔ ہڑتال کی وجہ نیا ڈسٹرکٹ کونسل ایکٹ تھا جو بقول ان کے کونسل کو مالی آزادی نہیں دیتا ۔