کشمیر میں وکلاء کی اپیل پر ہڑتال
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں وکلاء کی کال پر ہڑتال سے عام زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
اس ہڑتال کی اپیل کشمیر بار ایسوسی ایشن نے کی تھی۔
ہڑتال سے پوری وادی میں گاڑیوں کی نقل و حمل مسدود ہو کر رہ گئی اور تمام تعلیمی و کاروباری ادارے بند رہے۔ اس دوران بارہمولہ، سوپور اور جنوبی کشمیر کے بعض قصبوں سے پتھراؤ کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔
بار کے صدر میاں عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ یہ ہڑتال لوگوں کو ’حکومتِ ہند کے خطرناک عزائم‘ سے خبردار کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ عبدالقیوم کا دعویٰ ہے کہ، ’حکومت ہند کشمیر کی انتظامیہ کے تعاون سے جموں کشمیر کا مسلم اکثریتی کردار ختم کرنا چاہتی ہے‘۔
ان کے مطابق مقامی حکومت نے اسمبلی میں سرکاری نوکریوں کے حوالے سے ریزرویشن کا جو بِل منظور کروایا ہے اس سے صرف غیر مسلموں کو فائدہ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے ذریعہ بھی کشمیر کی آبادی کا تناسب بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مردم شماری کے عمل کو اہم قرار دیتے ہوئے بعض معروف علٰٰیحدگی پسند رہنماؤں نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ تاہم اب سبھی معروف علیٰحدگی پسند رہنماؤں نے ہڑتال کی حمایت کی ہے۔
اِدھر چھ ماہ تک جموں میں مقیم رہی مقامی انتظامیہ نے سوموار کو سرینگر کے سِول سیکرٹیریٹ میں باقاعدہ طور کام کاج سنبھال لیا ہے۔ واضح رہے سرما میں جموں اور گرما میں سرینگر میں دارالحکومت کے قیام کی روایت ایک سو اٹھائیس سال پہلے اُس وقت کے ڈوگرہ مہاراجہ نے قائم کی تھی، جو ابھی تک قائم ہے۔ انتظامیہ کی اس منتقلی کو 'دربار مُوو' کہا جاتا ہے۔
سرینگر میں ’دربار‘ کے افتتاح پر وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے بتایا کہ ان کی حکومت لاجپت نگر دھماکہ کیس میں بری ہوچکے نوجوانوں کی بحالی کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کرے گی۔

















