کشمیر کے ’لاؤزی‘ وزیر اعلیٰ اور غریب سچن
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
کشمیر کے ’لاؤزی' وزیر اعلیٰ

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی مظاہروں کو روکنے کے لیے کئی روز کے کرفیو، کرفیو نافذ کرنے میں ناکامی کے بعد فوج کی طلبی، سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں پندرہ افراد کی ہلاکت اور اس پس منظر میں ان دعوؤں کے بعد کہ حالات حکومت کے قابو سے باہر ہوگئے ہیں، کشمیر کے نوجوان وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ایک ’لاؤزی’ (بیکار) سیاست دان ہیں۔
عمر، آپ خود اس نتیجے پر پہنچے یہ بڑی بات ہے۔ لیکن اگر آپ نے نے اپنی ریاست میں میڈیا کو خاموش کرنے کی کوشش نہ کی ہوتی، تو یہ خبر آپ تک اور پہلے پہنچ جاتی، دلی کے اخباروں پر اگر نظر ڈالیں تو باقی لوگوں کی بھی آپ کے بارے میں یہی رائے معلوم ہوتی ہے!
بھارت کے غریب یا غریبوں کا بھارت

دنیا میں سب سے زیادہ غریب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں بستے ہیں۔ اور ان کی تعداد افریقہ کے چھبیس غریب ترین ممالک میں رہنے والے غریبوں سے کہیں زیادہ ہے۔
ظاہر ہے کہ حکومت ان اعداد و شمار سے اتفاق نہیں کرے گی۔لیکن حکومتوں کا یہ ہی کام ہوتا ہے۔ اگلے کسی جائزے کے بعد ہی آپ کو بتا سکیں گے کہ اس ملک میں غریب بھی رہتے ہیں یا غریب ہی!
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام (بیالیس کروڑ) غریب آٹھ بھارتی ریاستوں میں رہتے ہیں۔ لیکن یہاں ریاستیں اور بھی ہیں، اور بلا شبہہ غریب بھی، بس لوگ کہتے ہیں کہ حکمرانوں کو خبر نہیں ہے۔
ہمارے خیال میں یہ الزام درست نہیں۔ حکومت جو کر سکتی ہے کرتی ہے۔ مثال کے طور پر دلی کے فٹ پاتھ ہی لیجیے۔ پوری دلی کے فٹ پاتھ کھود کر نئی ٹائلیں لگائی گئی ہیں تاکہ غریب خوبصورت رنگیں ٹائلوں پر چل سکیں۔ آخر ان کے علاوہ اس شہر میں پیدل کون چلتا ہے؟ اور رات کو وہ ان حسین ٹائلوں پر سکون سے سو سکیں کیونکہ آخر ان کے علاوہ فٹ پاتھ پر کون سوتا ہے؟
دھونی کے دو سو کروڑ

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان مہیندر سنگھ دھونی نے ایک ’پرموشنل ڈیل’ سائن کی ہے جس کے لیے انہیں دو سو کروڑ روپے حاصل ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمائی کے لحاظ سے اب وہ سچن تندولکر سے بھی بہت آگے نکل گئے ہیں۔
اس ڈیل کے بعد ہی ہمیں سمجھ آیا کہ برق رفتار اقتصادی ترقی کے باوجود اس ملک میں غریبوں کی تعداد کم کیوں نہیں ہوتی؟ ایک دھونی امیر ہوتا ہے تو ایک سچن غریب ہوجاتا ہے! اور بات وہیں کی وہیں رہ جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور ہاں اگر ایک کپ چائے ساڑھے چار روپے کی ہو، تو دھونی چھبیس افریقی ممالک میں رہنے والے تمام اکتالیس کروڑ غریبوں کو کم سے کم ایک بار چائے پلا سکتے ہیں اور پھر بھی باقی زندگی سکون سے گزارنے کے لیے ان کے پاس تقریباً بیس کروڑ روپے بچ جائیں گے!
سچن کا تو پتہ نہیں لیکن دھونی یقیناً ان بیالیس کروڑ بھارتی غریبوں میں شامل نہیں ہیں جن کا اس نئی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے!





















