کشمیر: کرفیونافذ، یکجہتی مارچ ناکام

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنکشمیری عوام ایک بار پھرگھر میں محصور ہیں
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

بھارت کے زیرِ انتظام وادی کشمیر کے بیشتر مقامات پر جمعرات کو دھرنوں اور مظاہروں کے بعد حکام نے ایک بار پھر کرفیو اور سخت سیکورٹی پابندیاں نافذ کردی ہیں۔

جمعہ کے روز علیٰحدگی پسندوں کی طرف یکجہتی مارچ کی اپیل کو دیکھتے ہوئے سرینگر میں کرفیو کو سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔

اس دوران سرینگر، بارہمولہ، بانڈی پورہ، ہندوارہ، کپوارہ، بڈگام، اننت ناگ ، پلوامہ اور کولگام میں جمعہ کے روز میں معمولات زندگی معطل رہے۔

جمعرات کو حکام نے سرینگر کے حساس علاقوں سے اٹھارہ روزہ محاصرہ ہٹالیا تھا، تاہم لوگ کرفیو ہٹتے ہی سڑکوں پر جمع ہوگئے اور علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کی سربراہی والی حریت کانفرنس کی کال کے مطابق مظاہرے شروع کئے۔

ان مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا جس کے دوران چونتیس افراد زخمی ہوگئے۔ شام کو ہی حکام نے کرفیو کے دوبارہ نفاذ کا اعلان کیا۔ تاہم دوسرے اضلاع میں سخت ترین سیکورٹی پابندیاں عائد کی گئیں اور لوگوں کو کاروباری سرگرمیوں یا نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں ایک بار پھر کرفیو کا راج ہے

قابل ذکر ہے کہ جمعہ کو علیٰٰحدگی پسندوں نے سرینگر کے بٹہ مالو علاقہ کی طرف '' یکجہتی مارچ '' کی اپیل کی تھی۔ بٹہ مالو کی طرف جانے والے راستے سیل کردئے گئے ہیں جس کی وجہ سے صحت اور خوراک سے متعلق ضروری سہولات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

اِدھر شہر کی تاریخی جامع مسجد اور دوسری مرکزی مساجد میں کرفیو کے باعث جمعہ کا اجتماع نہیں ہوسکا۔ شہر کے سنیئر پولیس افسر شوکت حُسین نے بی بی سی کو بتایا: '' ہم نے عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اٹھارہ روز بعد کرفیو ہٹالیا تھا، لیکن لوگ معمول کی سرگرمی بحال کرنے کی بجائے سڑکوں پر دھرنا دینے لگے، ہمیں دوبارہ کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ ''

واضح رہے جون میں فوج کی طرف سے تین شہریوں کے اغوا اور بعد میں فرضی جھڑپ کے دوران انہیں قتل کرنے کے خلاف وادی میں احتجاجی تحریک چلی تھی۔ مظاہرین کے خلاف پولیس اور نیم فوجی دستوں کی کاروائیوں میں نو سالہ بچہ اور خاتون سمیت پندرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ سات جولائی کو فوج طلب کرنے کے بعد سے ہلاکتوں کا سلسلہ تھم گیا ہے تاہم ہڑتالوں اور کرفیو کی وجہ سے حالات بدستور کشیدہ ہیں۔