چھ ماہ: دو خواتین سمیت انتیس ہلاک

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارتی زیرانتظام کشمیر میں سنہ دو ہزار دس کا آغاز ایک تیرہ سالہ نوجوان کی ہلاکت سے ہوئی۔ پچھلے چھ ماہ کے دوران سرکاری فورسز کی کارروائیوں میں دو خواتین اور دس سالہ بچے سمیت اُنتیس افراد مارے گئے۔ ان میں فوج کی طرف سے فرضی جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے چھ شہری بھی شامل ہیں۔ پتھراؤ کرنے والے مشتعل مظاہرین کے حملوں میں نوزائد بچہ اور چالیس سالہ شہری بھی مارے جا چکے ہیں۔
کب کیا ہوا؟
آٹھ جنوری: لال چوک میں نیم فوجی دستوں کے خلاف تاجروں کا مظاہرہ، ٹیوشن سے آتے ہوئے پندرہ سالہ عنایت خان گولی لگنے سے ہلاک۔
چوبیس جنوری: پلوامہ کے قلم پورہ گاؤں میں فوج کی فائرنگ سے مقامی نوجوان مشاق میر ہلاک۔ ہلاکت کے خلاف احتجاج، پولیس سٹیشن میں فوج کے خلاف قتل کا مقدمہ درج۔
اکتیس جنوری: سرینگر کے راجوری کدلمیں مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی، تیرہ سالہ وامق فاروق ہلاک۔ شہر میں مظاہرے۔
پانچ فروری: ہڑتال کے دوران نیم فوجی بارڈر سکیورٹی کی فائرنگ سے پندرہ سالہ زاہد فاروق ہلاک ہو گئے جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہے تھے۔
بائیس فروری: بارہ مولہ میں ہڑتال کے دوران مسافر بس پر مظاہرین کا دھاوا، ماں کی گود سے نوزائد بچہ گر کر ہلاک۔ علیٰحدگی پسند رہنما سیدعلی گیلانی اور وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے مذمت کی۔
تیرہ اپریل: سوپور میں مظاہرین کا تعاقب، تیرہ سالہ زبیراحمد جہلم میں کود کر غرقاب۔ فورسز پر الزام، مظاہرے اور ہڑتال۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تیرہاپریل: کپوارہ کے ستّر سالہ حبیب اللہ خان ایک فرضی جھڑپ میں ہلاک۔ فوج نے حبیب اللہ کو ’سب سے عمررسیدہ شدت پسند‘ قرار دیا۔ پولیس تفتیش میں ہلاک ہونے والا عام شہری ثابت ہوا، قتل کا معاملہ درج۔
چوبیس اپریل: جنوبی ضلع پلوامہ میں ژیون گاؤں کے غلام محمد کلاس کو فوج نے مبینہ طور پر مسلح حملہ آوروں کے خلاف ڈھال بنایا۔ لاش لواحقین کے سپرد، پولیس نے فوج کے خلاف حراستی قتل کا معاملہ درج کیا۔
انتیس اپریل: کپوارہ میں تین مسلح دراندازوں کو ہلاک کرنے کا فوجی دعویٰ۔ پولیس پہلے ہی بارہ مولہ کے تین گمشدہ افراد کو تلاش کررہی تھی، تفتیش سے ظاہر ہوا کہ مارے جانے والے یہ لوگ نادی ہل کے مزدور تھے۔ فوج کے چار کشمیری مخبرگرفتار، میجر کے خلاف معاملہ درج۔ عدالتی تفتیش جاری۔
تیس اپریل:مسافر بس پر پتھراؤ کے دوران سرینگر کے چالیس سالہ شفیق شیخ سر پر چوٹ لگنے سے ہلاک۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے علیٰحدگی پسندوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
یکم جون: فرضی جھڑپوں کے خلاف مظاہروں میں شدّت۔ کنٹرول لائن پر دراندازی کے فوجی دعوؤں پر ہند نوازوں کا رد عمل۔ محبوبہ مفتی نے تمام جھڑپوں کو مشکوک قرار دیا۔
سات آٹھ جون: وزیراعظم منموہن سنگھ نے کشمیر کے دوران کہا کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ پر سنجیدہ ہیں۔ منموہن کی جموں کشمیر میں موجودگی کے دوران ہڑتال اور مظاہرے۔
حالیہ تشدد
گیارہ جون: راجوری کدل میں مظاہرین پر پولیس نےگیس شیلنگ کی، والدین کا اکلوتا بیٹا سترہ سالہ طفیل احمد طفیل متو سر میں شیل لگنے سے ہلاک۔ حالات کشیدہ۔
انیس جون: طویل احمد کی ہلاکت کے بعد مظاہروں میں فورسز نے صفاکدل کے جواں سال رفیق بنگرو کو زد وکوب کیا۔ کئی روز تک ’کوما‘ میں رہنے کے بعد بنگرو نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔
بیس جون: رفیق کے جنازے میں شامل نوجوان مشتعل، فورسز کی فائرنگ میں پچیس سالہ جاوید احمد ملہ گلے میں گولی لگنے سے ہلاک۔
بیس جون: کپوارہ کے مژھل سیکٹر میں ایک اور فرضی جھڑپ کا انکشاف، مظلوم ملک اور عزیز ملک نامی دو مزدور ہلاک۔ پولیس میں فوج کے خلاف قتل کا مقدمہ درج۔
پچیس جون: سوپور میں فوج کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہونے والے دو مقامیمسلح شدت پسندوں کی لاشوں کا مطالبہ، جلوس پر پولیس کی فائرنگ سے دو نوجوان شکیل اور فردوس ہلاک۔ قصبے میں کرفیو۔
ستائیس جون:سوپور میں ہلاکتوں کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ پولیس کارروائی میں تئیس سالہ بلال وانی ہلاک۔
اٹھائیس جون: مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ، بارہ مولہ میں نو سالہ آصف حسن ہلاک۔ سوپور میں مظاہرے، پولیس فائرنگ میں تجمل بٹ بھی ہلاک۔
انتیس جون: مظاہروں کا دائرہ وسیع، جنوبی ضلع اننت ناگ میں پولیس فائرنگ سے تین نوجوان،سترہ سالہ شجاعت، پندرہ سالہ امتیاز اور اٹھارہ سالہ اشتیاق ہلاک۔ قصبے میں کرفیو۔
یکم جولائی: کرفیو، مظاہرے اور ہڑتال، زندگی معطل۔ بڑے پیمانہ پر گرفتاریوں کا آغاز۔ سرینگر کے مختلف تھانوں میں ساڑھے تین سو لڑکے قید، ڈیڑھ سو ضمانت پر رہا۔
چھ جولائی: سرینگر کے بٹہ مالو اور لال چوک میں پچیس سالہ خاتون، فینسی، سترہ سالہ مظفر بٹ، بتیس سالہ فیاض وانی اور پندرہ سالہ ابرار شیخ ہلاک۔ وادی میں سخت کرفیو، رات کےدوران فوج طلب۔ نئی دلّی میں وزیراعظم منموہن سنگھ نے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔
سات جولائی: وادی میں فوج کا فلیگ مارچ، میڈیا پر پابندی۔
آٹھ جولائی: وادی کے مختلف علاقوں میں فوجی محاصرہ کے خلاف مظاہرے۔ کوئی اخبار شائع نہیں ہوا۔ پولیس کارروائی میں دو نوجوان شدید زخمی۔ ایمبولینس کی تلاشی کے دوران مریضہ ہلاک۔




















