ہلاکتوں میں اضافہ، مزید فورس تعینات

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں کرفیو کے باوجود مظاہرے جاری ہیں
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں منگل کو سرینگر کے قمرواری علاقے میں فورسز کی فائرنگ سے ایک اور کم سن لڑکا ہلاک ہوگیا۔

پیر کو بھی مختلف علاقوں میں کرفیو کے دوران مظاہرہ کرنے والوں پر فائرنگ اور تشدد سے بٹہ مالو کے نوسالہ سمیر احمد سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ڈاکڑوں کا کہنا ہے کہ سمیر کے جسم میں فورسز کی مارپیٹ سے خون جم گیا تھا جس سے اس کی موت ہوگئی۔ اس طرح صرف جمعے سے ایسے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چوبیس ہوگئی ہے۔ جب کہ گیارہ جون سے تریپن روزہ کشیدگی کے دوران اب تک چالیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

اس دوران مظاہروں کو دبانے کے لئے حکومت نے بھارتی فورسز کی خاص ’ریپڈ ایکشن فورس‘ کے مزید نو ہزار اہلکار وادی میں تعینات کر دیے ہیں۔

تازہ ہلاکت منگل کی صبح اس وقت ہوئی جب سرینگر مظفرآباد روڑ پر واقع شہر کی نواحی بستی قمر واری کے لوگ سڑک پر نکلے اور ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ مقامی شہری عابد احمد ڈار نے بتایا کہ نیم فوجی دستوں نے پہلے تو اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور بعد میں سیدھی فائرنگ کی جس میں چار افراد زخمی ہوگئے۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنفورسز کی فائرنگ سے درجنوں کشمیری مارے جا چکے ہیں

زخمیوں کو سری نگر کے صدر ہسپتال پہنچایا گیا۔ ہسپتال میں ایمرجنسی شعبے کے نگران ڈاکڑ محمد مقبول نے بی بی سی کو بتایا کہ زخمیوں میں سے معراج الدین لون نامی چوبیس سالہ نوجوان ہلاک ہو گیا ہے۔ ڈاکڑ مقبول کے مطابق لون کے سینے میں گولی لگی تھی اور اس کا دل اور پھیپھڑے چھلنی ہوگئے تھے۔

اس ہلاکت کے بعد قمرواری اور اس کی نزدیکی بستیوں کے لوگوں نے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے شاہراہ پر دھرنا دیا۔ پولیس اور نیم فوجی دستے انہیں ہٹانے کے لیے فی الحال ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں۔ یہ شاہراہ سری نگر کے شمالی علاقوں مظفرآباد، بارہ مولا، بانڈی پورہ اور کپواڑہ کے ساتھ ملاتی ہے۔

دریں اثنا عوامی مزاحمت کو دبانے کے لیے دو ماہ سے کرفیو، فائرنگ اور ہزاروں گرفتاریوں کے حربے ناکام ہوجانے کے بعد حکومت نے بھارت سرکار سے ریپڈ ایکشن فورس کے نو ہزار اہلکار طلب کیے ہیں جنہیں حساس ترین علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پیر کو بھارتی حکومت سے اضافی فورسز کا مطالبہ خود وزیراعلی عمرعبداللہ نے دہلی میں وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس کے دوران کیا تھا۔ انہوں نے اس اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ قانون اپنے ہاتھ میں لینے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔

اِدھر ریاستی حکومت نے سخت گیر علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کی یہ پیشکش مسترد کردی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر حکومت کرفیو ہٹادے تو وہ منگل کو ایک جلوس کی قیادت کریں گے جس کے دوران کسی قسم کی سنگ بازی یا تشدد نہیں ہوگا۔ حکومت نے منگل کی صبح سخت ترین کرفیو جاری رکھا۔