بھارت میں’ہندو‘ شدت پسندی کا رجحان

ہندوستان کے وزیر داخلہ پی چدامبرم نے کہا ہے کہ ملک میں’سیفرن ( ہندو) دہشت گردی‘ کا نیا رجحان سامنے آیا ہے جس سے جڑے ہوئے لوگ بم دھماکوں کے کئی واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں۔
سیفرن یعنی زعفرانی رنگ ہندو قوم پرست تنظیموں سے تعبیر کیا جاتا ہے اور گزشتہ کچھ عرصے سے ملک میں اس تاثر نے زور پکڑا ہے کہ کئی ایسے بم دھماکوں میں، جن کا معمّہ حل کرنے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی، ہندو شدت پسندوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔
اس سلسلے میں پولیس اور کئی ریاستوں کے انسداد دہشت گردی دستوں نے مہارشٹر، مدھیہ پردیش اور راجستھان سے کئی لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان میں سے کچھ کا تعلق ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس سے بتایا جارہا ہے۔
لیکن آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ جو افراد اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں ان کا تنظیم سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔
پی چدامبرم ملک کے اعلیٰ ترین پولیس افسران کی ایک پریس کانفرنس سے افتتاح کر رہے تھے۔ ’ہندوستان میں نوجوان عورتوں اور مردوں کو ریڈیکلائز کرنے کی کوششیں پوری شدت سے جاری ہیں۔اس کے علاوہ حال ہی میں سیفرن دہشت گردی کا سلسلہ بھی سامنے آیا ہے اور ان لوگوں پر ماضی میں ہونے والے کئی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔‘
تفتیشی اداروں نے مہارشٹر کے مالیگاؤں، اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ اور حیدرآباد کی مکّہ مسجد میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں فوج کے ایک حاضر سروس کرنل اور ایک سادھوی سمیت کئی افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اور ان میں سے کچھ کا تعلق ابھینو بھارت نامی شدت پسند ہندو تنظیم سے بتایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے میں بھی ہندو شدت پسندوں کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر باریک بینی سے تفتیش کی جائے تو جو لوگ اجمیر اور مکّہ مسجد کے دھماکوں میں ملوث مانے جارہے ہیں، سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکے میں بھی انہیں کا ہاتھ نکلےگا۔ اس واقعہ میں تقریباً ساٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن ابھی تک کیس سلجھایا نہیں جاسکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















