فیس بک پرغیرشائستہ پیغامات، طلباء معطل

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنتین ماہ معطلی کی سزا سے پہلے ان طلباء کے والدین سے سکول انتظامیہ نے انفرادی طور پر بات چیت بھی کی تھی

بھارت کے شہر چنڈی گڑھ میں سکول نے فیس بک پر ایک خاتون ٹیچر کے خلاف غیر شائستہ پیغامات لکھنے پر سولہ طلباء کو تین ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔

فیس بک پر اس طرح کے تبصرے کا آغاز چنڈی گڑھ میں وی ویک سکول کے ایک طالب علم نے شروع کیا جو میتھ میں کم نمبر ملنے کے سبب اپنے ٹیچر سے ناراض تھے۔

دیگر پندرہ طلبا کو معطلی کی یہ سزا مذکورہ طالب علم کو شہ دینے کے جرم میں دی گئی ہے۔

بھارت میں فیس بک بہت ہی مقبول خاص طور پر نوجوانوں کی پسندیدہ سائٹ ہے۔

سکول کے مینیجر کا کہنا ہے کہ ہائی سکول کے طالب علم آصف پرویز نے اپنے ٹیسٹ نمبروں کے ساتھ ایک تھریڈ پوسٹ کی شروعات کی تھی جس میں نازیبا اور غیر شائستہ باتیں بھی لکھی ہوئی تھیں۔

سکول کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ہی اس پوسٹ پر سکول کے سینیئر طلباء نے بھی ٹیچر کے خلاف مستقل لکھنا شروع کر دیا۔ سکول کو اس کے بارے میں اتفاق سے ایک ہفتے بعد ہی پتہ چلا۔

ٹیچر نے اس کے متعلق سکول انتظامیہ سے شکایت کی جس پر طالب علموں کو معطل کر دیا گیا۔

سکول کے ڈائریکٹر ایچ ایس مانک کا کہنا ہے ’ ہم ضوابط کی خلاف ورزی قطعی برداشت نہیں کریں گے۔ جو باتیں فیس بک پر لکھی گئي ہیں وہ نہ صرف منفی بلکہ نازیبا، غیر شائستہ اور گالی گلوچ والی ہیں‘۔

تین ماہ معطلی کی سزا سے پہلے ان طلباء کے والدین سے سکول انتظامیہ نے انفرادی طور پر بات چیت بھی کی تھی۔

معطل شدہ طلباء کا کہنا ہے سکول انتظامیہ کی یہ کارروائی ان کی ذاتی زندگی اور اظہار رائے کے ان کے حق میں سرا سر مداخلت ہے۔ ایک طالبہ کے بقول ’سکول کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ ہماری ذاتی زندگی اور آن لائن میں جھانکے‘۔

بیشتر والدین اس بات سے متفق ہیں کہ طلباء کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کی عزت کریں لیکن تین ماہ کی سزا کو وہ زیادہ بتا تے ہیں۔