دھماکہ:’ہندو تنظیم پر شک‘

سمجھوتا ایکسپریس
،تصویر کا کیپشنتین برس گزرنے کے بعد سمجھوتا ایکسپریس کی تفتیش پوری نہيں ہوئی ہے
    • مصنف, نارائن باریٹھ
    • عہدہ, بی بی سی ، جے پور

راجستھان میں انسداد دہشت گردی پولیس یعنی اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکوں میں اجمیر میں دھماکے کرنے والوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

اجمیر کے بم دھماکوں کی پہلے مرحلے کی تفتیش کرنے کے بعد راجستھان اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ انہيں لگتا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے دھماکوں کے پیچھے بھی ہندو شدت پسندوں کا ہاتھ ہے۔

اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ انہیں ایک ہندو تنظیم کے سینیئر کارکن سنیل جوشی کی ڈائری ملی ہے جس میں اجمیر میں دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار ہونے والے اندریش کمار کے ساتھ ان کے نزدیکی رشتوں کے بارے میں ثبوت ملتے ہیں۔

واضح رہے کہ سنیل جوشی کا نام اجمیر کے دھماکوں کی چارج شیٹ میں ایک ملزم کے طور پر درج ہے لیکن سنیل جوشی کی بعد میں موت ہوگئی تھی۔

اندریش کمار نے اپنے اوپر لگے الزامات سے انکار کیا ہے اور اپنی گرفتاری کو غلط بتایا ہے۔

راجستھان اے ٹی ایس نے سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکوں کے بارے میں عدالت میں ایک چارج شیٹ داخل کی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ’پانی پت کے دیوانہ ریلوے سٹیشن کے پاس اس ٹرین میں ہونے والے دھماکوں میں انہیں افراد کا ہاتھ ہے جو اجمیر دھماکوں کے لیے ذمہ دار ہیں۔‘

اے ٹی ایس نے اجمیر کے دھماکوں اور سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے دھماکوں میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد، دھماکوں کی قسم کا مطالعہ کیا اور پایا کہ دھماکوں میں استعمال ہونے والا مادہ اندور شہر سے خریدا گیا تھا۔

اس کے علاوہ اس کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم کے بیشتر ممبران کا تعلق بھی اندور سے ہے۔

پولیس نے سنیل جوشی کی ڈائری میں ایسے فون نمبر اور پتے پائے ہیں جو ہندو تنظیم آر ایس ایس کے ممبران کے ہیں۔ اب ایسا مانا جارہا ہے کہ پولیس ان افراد سے پوچھ گچھ کرے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض پہلوؤں کی تفتیش ابھی بھی جاری ہے۔

سنہ 2007 میں اٹھارہ فروری کی رات کو اٹاری کے راستے پاکستان جانے والی ٹرین میں ہریانہ کے شہر پانی پت کے نزدیک ایک گاؤں دیوانہ میں بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 68 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔