اشوک چوان کی مصیبت، اروندھتی رائے پر حملہ
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
معصوم فوجی، شاطر سیاست دان

ممبئی کی اس کثیر منزلہ عمارت کا ذکر تو آپ نے سنا ہی ہوگا جس کی وجہ سے اب کسی بھی وقت مہاراشٹر کی حکومت گر سکتی ہے۔ یہ اکتیس منزلہ عمارت جس کو آپریٹو سوسائٹی نےتعمیر کیا ہے وہ کارگل کی لڑائی میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کےنام پر بنائی گئی تھی اور اس میں فوج کے کئی اہلکاروں کے خلاف تفتیش کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے۔
جن لوگوں کو یہ فلیٹ ملے ان میں فوج کے دو سابق سربراہان اور ایک ایڈمرل بھی شامل ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ انہیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ زمین کارگل کے متاثرین کےنام پر لی گئی تھی یا عمارت کی تعمیر میں کچھ گھپلہ تھا! انہوں نے اب اپنے فلیٹ لوٹانے کی پیش کش کی ہے۔
ہندوستانی سیاست دان بہت شاطر اور فوجی بہت معصوم ہوتےہیں۔ لیکن سر، آپ کتنے بھی معصوم ہوں، آٹھ کروڑ سے زیادہ کا فلیٹ کوڑیوں کے دام مل رہا تھا تو آپ کا ماتھا کیوں نہیں ٹھنکا؟ آخر سوسائٹی کی نظر کرم آپ ہی پر کیوں ہوئی؟
لگتا ہے فوج بھی آسانی سے سبق نہیں سیکھتی۔ کارگل کی لڑائی میں بھی یہ ہی ہوا تھا۔ جب پاکستانی درانداز کارگل کی پہاڑیوں میں مورچے قائم کر رہے تھے، تب بھی خبر ایک چرواہے سے ہی ملی تھی!
اروندھتی رائے کے اٹوٹ گملے

مصنفہ اروندھتی رائے متنازعہ معاملات پر متنازعہ بیانات دینے سے باز نہیں آتیں۔ انہوں نے جب سے کہا کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ نہیں ہے، ذرائع ابلاغ میں بڑے بڑے مبصر اروندھتی اور ان کے بیان، دونوں کو نظر انداز کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں اور حکومت نے بھی کافی غور و خوض کے بعد ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ نہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لیکن اتوار کو کچھ درجن مظاہرین نے ان کے گھر کے باہر توڑ پھوڑ کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کا تعلق دائیں بازو کی جماعتوں سے تھا۔انہوں نے ایک بات ثابت کردی۔ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہو نہ ہو، اروندھتی رائے کے گھر کے باہر رکھے گملے اٹوٹ نہیں ہیں!
اور اروندھتی ہیں کہ ان تک بھی خبر آسانی سے نہیں پہنچتی!
ساس سے بھی رشتے داری

وزیر اعلیٰ اشوک چوان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ ان کے کہنے پر جن لوگوں کو فلیٹ ملے، ان میں چوان کی ساس بھی شامل تھیں۔ لیکن چوان کہتے ہیں کہ ساس فیملی کا حصہ نہیں ہوتیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی بارے میں ایک اخبار نے کارٹون شائع کیا ہے جس میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی، جو چوان کے وزیر اعلیٰ رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں گی، انہیں ایک کلاس روم میں سختی سے سبق پڑھا رہی ہیں۔
دیوار پر سونیا کی ساس اندرا گاندھی کی تصویر ہے اور بلیک بورڈ پر لکھا
ہے:
ساس = رشتےدار!
اور سونیا چوان سے کہہ رہی ہیں: آپکو ریلیٹویٹی ( رشتہ داری؟) کی یہ تھیوری یاد کرنی چاہیے!
ان کی بات بھی صحیح ہے، کانگریس کی پوری سیاست بھی اسی تھیوری پرٹکی ہوئی ہے!



















