گیلانی : کشمیر پر مذاکرات کے لئے شرائط

بھارت کے زیر انتظام وادی کشمیر کے معروف علٰٰحیدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے بھارتی وزیرداخلہ پالا نیاپن چدامبرم کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کو ایک متنازعہ خطہ تسلیم کرنے کے بعد بھارت کشمیری قیدیوں کو رہا کرے اور یہاں قائم سخت قوانین ختم کیے جائیں تو بھارت، پاکستان اور کشمیریوں کے درمیان مذاکرات ہوسکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسے سہ فریقی مذاکرات میں یہ طے کیا جائے گا کہ اقوام متحدہ میں کشمیر سے متعلق قرار دادوں پر کیسے عمل کیا جائے۔
سرینگر کی نواحی بستی حیدر پورہ میں واقع اپنی رہائیش گاہ پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں گیلانی نے کہا : '' چدامبرم کا بیان نئی دلّی کی فریب کارانہ سیاست کا حصہ ہے۔ پچاس جوانوں کو قتل کرنے کے بعد انہیں ماضی کے وعدے یاد آگئے۔ ہمارے لوگ تو سڑکوں پر جواہر لعل نہرو کا ہی وعدہ یاد دلارہے تھے لیکن ان پر گولیاں برسائی گئیں۔''
واضح رہے کہ بھارتی وزیرداخلہ نے جمعہ کے روز پارلیمنٹ میں کشمیریوں کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے گیلانی کو بھی ذاتی شرکت کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے جموں کشمیر پولیس کو نیم فوجی دستوں سے زیادہ '' ظالم '' قرار دے کر انہیں اپنا رویہ تبدیل کرنے کی تلقین کی۔
تاہم مسٹر گیلانی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ '' کشمیر چھوڑو'' تحریک کے دوران سنگ بازی سے گریز کریں، کیونکہ بقول ان کے بھارتی حکومت یہاں کے عوام کے خلاف تشدد کا استعمال کررہی ہے اور پتھراؤ سے یہ کاورائیاں مزید پرتشدد ہوجاتی ہیں۔
انہوں نے چدامبرم سے مخاطب ہوکر کہا: '' حیرت ہے کہ آپ لوگوں سے اپیل کرتے ہو کہ تشدد بند کریں، تشدد تو حکومت کرتی ہے۔ لوگ باہر نکلتے ہیں، جائز مطالبات کا نعرہ دیتے ہیں اور آپ کی فورسز ان پر گولیاں برساتی ہیں۔''
مسٹر گیلانی نے حالیہ ہفتوں کے دوران ہڑتال اور احتجاجی پروگراموں پر لوگوں کی تائید پر عوام کی شکریہ ادا کیا اور اُن حلقوں، کالم نویسوں اور سیاسی گروپوں کی نکتہ چینی کی جو یہ کہتے ہیں کہ کشمیر میں جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ بغیر کسی رہنمائی کے ہورہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے گیارہ جون، جب سے ہلاکتوں اور مظاہروں کا سلسلہ شدید ہوگیا، سے بہت پہلے فوجی انخلا کے لئے ضلع سطح پر مہم شروع کررکھی تھی اور آج کی تحریک اُسی کا تسلسل ہے۔

گیلانی نے پندرہ اگست تک کا پروگرام مشتہر کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو دن کے بارہ بجے سے معمول کی سرگرمیاں ہونگی اور سنیچر یعنی چودہ اگست کو یوم پاکستان منایا جائےگا۔ اس روز کوئی ہڑتال نہیں ہوگی اور مساجد میں پاکستان کی بہبودی کے لئے دعائیں مانگی جائینگی۔
گیارہ اگست کو انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ پچھلے دو ماہ کےد وران مارے گئے پچاس نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے وہ سرینگر کے جنوب میں پام پورہ قصبہ کی طرف مارچ کریں۔ پام پورہ کے رہنے والے علیٰحدگی پسند رہنما شیخ عبدالعزیز دو ہزار آٹھ میں اسی روز مظفرآباد مارچ کے دوران فائرنگ کے ایک واقعہ میں مارے گئے تھے۔
مسلسل ہڑتالوں سے معیشت اور تعلیم کو پہنچ رہے نقصان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں گیلانی نے کہا کہ ہر بستی میں اساتذہ ہیں، انہیں مقامی بچوں کی ٹیوشن لینی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اپنی بستیوں میں بیت المال قائم کرکے غریبوں کی مدد کرنی چاہیے۔ مسڑ گیلانی نے بتایا: '' مجھے معلوم ہے یہ بہت بڑا نقصان ہے، لیکن قوم کو یہ برداشت کرنا ہوگا، کیونکہ آزادی کی قمیت اس نقصان سے بہت زیادہ ہے۔''
انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ جدوجہد کے دوران ڈسپلن اور امن کا مظاہرہ کریں اور کسی ایمبولینس یا ضروی اشیا کی تلاش میں نکلے لوگوں کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے۔





















