انڈیا ڈائری:منموہن کی ڈور سونیا کے ہاتھ
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
منموہن کی ڈور سونیا کے ہاتھ

امریکی میگزین نیوزویک کی اگر مانیں تو ہندوستان کے وزیرِاعظم منموہن سنگھ دنیا کے ’لیڈر نمبر ون‘ ہیں لیکن دنیا کے سو بہترین ممالک کی فہرست میں ہندوستان اٹھہترویں نمبر پر ہے۔
نیوز ویک کے مطابق عالمی رہنماؤں کو ان کی انکساری اور کثر نفسی بہت پسند آتی ہے۔
یا تو یہ گھر کی مرغی دال برابر کی کلاسیکل مثال ہے یا منموہن سنگھ نے بیرون ملک اپنی امیج مینجمنٹ بہت اچھی طرح کی ہے۔ یہاں ان کی قابلیت اور ایمانداری کا تو سب اعتراف کرتے ہیں، لیڈر انہیں کوئی نہیں مانتا! کیونکہ عام تاثر تو یہ ہی ہے کہ ان کی ڈور سونیا گاندھی کے ہاتھ میں ہے۔
اور ڈور کی بات آئی تو نیوزویک کے مطابق دنیا میں پتنگ اڑانے کے لیے ہندوستان سب سے اچھی جگہ ہے!
ہاں یہ ماننے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اور اگر آپ سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ سے معلوم کریں گے تو وہ بھی اس کی تصدیق کریں گے!
مدھوکوڑا کی عجب کہانی

قبائلی رہنما مدھو کوڑا جب جھارکھنڈ کے وزیرِاعلٰی تھے تو ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کروڑوں روپے کا گھپلہ کیا، سستے میں ٹھیکے دیے اور اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر بیرون ملک کہیں بیش قیمت کانیں خریدیں تو کہیں بندرگاہوں کی تعمیر کے کانٹریکٹ حاصل کرنے کی کوشش کی۔
مختصر یہ کہ بہت اونچی اڑان بھری اور جیسا ایسی اڑانوں کے بعد کبھی کبھی ہوتا ہے، وہ آجکل جیل میں ہیں اور یہ سب صرف انتالیس سال کی عمر میں۔
صبح چھ بجے جیل میں اپنی کوٹھری سے نکلتے ہیں، قیدیوں کی گنتی میں شامل ہوتے ہیں اور پھر تیار ہوکر جیل کی ایک نیلی وین میں پارلیمان کے لیے روانہ ہوجاتے ہیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چونکہ وہ لوک سبھاکے رکن ہیں لہذا عدالت نے جیل میں ان کے شب و روز کچھ اس طرح تقسیم کیے ہیں کہ وہ راتیں جیل میں گزارتے ہیں اور دن میں ملک کی تقدیر سنوارتے ہیں!
ہندوستان کی پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں میں ایسے اراکین کی کمی نہیں ہے کہ جن کے خلاف کیسزمیں اگر باقاعدگی کےساتھ کارروائی کی جائے تو اسمبلی یا پارلیمان جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے، جیل میں ہی ’ کورم‘ پورا ہوسکتا ہے!
سزا کھیل کرنے کے بعد

سونیا گاندھی نے دھمکی دی ہے کہ جو لوگ کامن ویلتھ گیمز کے انعقاد میں بدعنوانی کے مرتکب پائے جائیں گے، ان کے خلاف ’گیمز کے بعد‘ سخت کارروائی کی جائے گی۔
بدعنوانی جس پیمانے پر ہوئی ہے اس کی پرتیں تو روز کھل رہی ہیں۔ لیکن سزا کی فکر کسی کو نہیں ہے کیونکہ جس سست رفتار سے گیمز کی تیاریاں جاری ہیں، اور جتنا کام ابھی ادھورا باقی ہے، لگتا نہیں ہے کہ گیمز ہوپائیں گے اور ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی کبھی نوبت آئے گی۔





















