بھارت کےتمام شعبوں میں بدعنوانی کا چلن

اشوک چوان
،تصویر کا کیپشنچوان کوآدرش سوسائٹی میں بد عنوانی کے سبب وزارت اعلی کی کرسی چھوڑنی پڑی
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہندوستان میں بدعنوانی معاشرے کے ہر شعبے میں پھیلی ہوئی ہے اور حکومت، نجی سیکٹر، پولیس اور عدلیہ کوئی اس سے محفوظ نہیں ہے۔

اور منگل کی صبح سے رونما ہونے والے واقعات پر اگر نظر ڈالیں تو اس دعوے کو تقویت ملتی ہے۔ٹرانسپیرنسی ہر سال ایک فہرست جاری کرتی ہے جس میں بدعنوانی کے تاثر کی بنیاد پر دنیا کے ممالک کی درجہ بندی کی جاتی ہے، سب سے پاک صاف ملک سر فہرست ہوتا ہے۔ سن دو ہزار دس میں ہندوستان ستاسیویں نمبر پر تھا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما کے ہندوستان سے روانہ ہونے کے چند ہی منٹوں بعد کانگریس پارٹی کی اعلی کمان نے مہارشٹر کے وزیر اعلی اشوک چوان کو ہٹا دیا۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کرگل کی لڑائی میں مارے جانےوالوں کے نام پر بننے والی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کی راہ سے تمام رکاوٹیں ہٹانے کے لیے اپنے اختیارات کا بے جا استعمال کیا تھا۔

سریش کلماڈی
،تصویر کا کیپشنکامن ویلتھ کھیلوں میں بد عنوانی کے سبب سریش کلماڈی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے

اس سوسائٹی کی تعمیر میں بہت سےضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی اور الزام یہ ہے کہ افسران اور سیاسی رہنماؤں کو خوش کرنے کے لیے کروڑوں روپے کے فلیٹ انہیں بہت معمولی قیمت پر دیے گئے۔

اس سوسائٹی میں جن لوگوں کو فلیٹ ملے ان میں فوج کے دو سابق سربراہ، ایک سابق ایڈمیرل اور اشوک چوان کے تین رشتیدار بھی شامل تھے۔

اشوک چوان تو چلے گئے لیکن وفاقی وزیر اطلاعات ڈی راجہ ابھی ٹکے ہوئے ہیں لیکن ان پر بھی دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ ہندوستان میں سودوں کی جانچ کرنے والے خود مختار ادارے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سن دو ہزار آٹھ میں '' ٹو جی سپیکٹرم'' (موبائل سروس فراہم کرنے کا لائسنس) کوڑیوں کے دام بیچ کر انہوں نے سرکاری خزانے کو ایک لاکھ ستر ہزار کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔

ڈی راجہ
،تصویر کا کیپشنڈی راجہ پر بھی بدعنوانی کا الزام ہے

ڈی راجہ پر کافی عرصے سے ان لائسنسوں کے اجرا میں بدعنوانی کا الزام لگتا رہا ہے لیکن وہ کانگریس کی اتحادی جماعت ڈی ایم کے سے وابستہ ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کے سنگین سیاسی مضمرات ہوسکتے ہیں۔

ایک لاکھ ستر ہزار کروڑ روپے کی رقم وفاقی بجٹ کے تقریباً چھٹے حصےکے برابر ہے۔ سی اے جی کی رپورٹ پارلیمان کے رواں اجلاس میں ہی پیش کی جاسکتی ہے جس دوران بدعنوانی کے مسئلہ پراب تک کافی ہنگامہ رہا ہے۔

اور اسی پس منظر میں منگل کو ہی دولت مشترکہ کھیلوں کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چئرمین سریش کلماڈی کو کانگریس پارلیمانی پارٹی کے سیکریٹری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ آرگنائزنگ کمیٹی کو بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے جن کی تفتیش متعدد ایجنسیاں کر رہی ہیں۔

یہ تو ہوئی حکومت کی بات۔ نجی سیکٹر بھی خبروں میں ہے کیونکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی ستیم کے سابق سربراہ راما لنگم راجو کی ضمانت منسوخ کر دی گئی ہے اور وہ بدھ کو اانہیں واپس جیل جانا پڑا ہے۔ راجو، ان کے بھائی اور کمپنی سے وابستہ دیگر افراد کو سات ہزار کروڑ روپے کی خورد برد کے الزامات کا سامنا ہے۔

گزشتہ برس جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان میں کچھ کمپنیاں اور بزنس سیکٹر اتنے طاقتور ہیں کہ وہ حکومت کی سطح پر بھی پالیسی سازی کے عمل کو بے جا طور پر متاثر کرتے ہیں۔

اور عدلیہ کے بارے میں یہ خبر ہے کہ پارلیمان کے ایوان بالا کی ایک کمیٹی نے کوکاتا ہائی کورٹ کے جج سومترو سین کو سرکاری فنڈز میں گھپلے کے الزامات کا قصوروار قرار دیا ہے۔ اب سومتروں سین کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے پارلیمان میں ایک تحریک پیش کی جائے گی جو اگر منظور ہوجاتی ہے تو اعلی عدلیہ کے کسی بھی جج کو ہٹائے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہوگا۔

ٹرانسپیرنسی کے مطابق اس کی جاری کردہ فہرست میں ہندوستان گزشتہ پانچ برسوں سے تقریباً ایک ہی جگہ رکا ہوا ہے، یعنی بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اگر کوئی اقدامات کیے گئے ہیں تو بظاہر ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے اور اس کی سب سے بھاری قیمت ان لوگوں کو ادا کرنی پڑتی ہے جو خطہ افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔