بدعنوانی پر سرکردہ شخصیات کی اپیل

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبدعنوانی کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں

بھارت کے سرکردہ صنعت کاروں، بینکرز اور سابقہ ججوں سمیت ملک کی چودہ اہم شخصیات نے ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور بد انتظامی پرگہری تشویش ظاہر کی ہے ۔

’اپنے رہنماؤں کے نام ایک کھلا خط‘ کے عنوان سے لکھےگئے ایک خط میں ان شہریوں نے صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پانج سفارشیں بھی تجویز کی ہیں۔

اپنی نوعیت کے اس پہلے خط پر دیگر اہم شہریوں کے ساتھ ملک کے سرکردہ صنعتکاروں جمشیدگودریج، عظیم پریم جی، ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر بمل جالان، پرائیویٹ بینک ایچ ڈی ایف سی کے چیر مین دیپک پاریکھ اور سپریم کورٹ کے سابق جج بی این سری کرشنا نے بھی دستخط کیے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ملک کو سب سے بڑا چیلنج بدعنوانی کی شکل میں ہے اور اسے پکے ارادے، فوری اور جنگی پیمانے پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بدعنوانی کا مقابلہ کرنےکے لیے ہر ریاست میں ’بااثر اور آزاد لوک آیوکت مقرر کیے جانے چاہیں۔‘

ان شہریوں نے کہا ہے کہ ’یہ لازمی ہے کہ ہمارے تفتیشی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عاملہ کے دباؤ سے پوری طرح آزاد ہوں۔‘

ملک کے ان سرکردہ شہریوں نے اپنے کھلے خط میں لکھا ہے کہ ’اداروں، بزنس اور اور حکومت کی قومی سرگرمیوں کے ہر پہلو میں بد انتظامی پھیلی ہو ئی ہے جس پر ہم سبھی کو تشویش ہے۔‘

اس خط میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان موجودہ تعطل پر بھی فکر ظاہر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مخلوط حکومت کے اس دور میں سیاسی تحمل اور رواداری کی روایت ابھی تک پیدہ نہیں ہو پائی ہے۔

یہ خط ایک ایسے وقت میں لکھا گیا ہے جب مرکزی حکومت کو کئی طرح کی بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا ہے۔حکومتی اداروں اور بعض وزرا کے مبینہ طور پر بدعنوانی کے معاملات میں ملوث ہونے کے سوال پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان زبردست تلخی پیدہ ہو گئی ہے اور پچھلا پارلیمانی اجلاس پوری طرح معطل رہا ہے۔

حزب اختلاف کا الزام ہے کہ حکومت بد عنوانی پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ اپوزیشن نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ان افراد کے نام منظر عام پر لائے جائیں جنہوں نے غیر ممالک کے بینکوں میں پیسے جمع کر رکھے ہیں۔

ایسے افراد کی ایک فہرست جرمنی کے ایک بینک نے بھارتی حکومت کو سونپی ہے اور حکومت نے یہ فہرست سپریم کورٹ کے حوالے کر دی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس فہرست میں جن کے نام دیے گئے ہیں انہوں نے جو دولت رقوم جمع کر رکھی ہے ان کی نوعیت کیا ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ زبردست دباؤ میں ہیں اور وہ آئندہ ایک دو دن کے اندر اپنی کابینہ میں رد وبدل کرنے والے ہیں۔