ممبئی دھماکے: سترہ افراد ہلاک، تحقیقات کا حکم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کے کاروباری مرکز ممبئی میں بدھ کی شام کو تین یکے بعد دیگرے بم دھماکوں میں سترہ افراد ہلاک اور ایک سو دس زخمی ہوگئے ہیں۔
ممبئی سے ہمارے نامہ نگار زبیر احمد نے بتایا کہ دھماکے جنوبی ممبئی کے زاویری بازار اور اوپرا ہاؤس اور وسطی ممبئی کے دادر علاقے میں ہوئے۔ یہ تینوں ہی شہر کے مصروف علاقوں میں رش کے اوقات میں ہوئے۔
دلی سے ہمارے نامہ نگاروں شکیل اختر اور سہیل حلیم نے بتایا کہ وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا کہ یہ دھماکے شام کو تقریباً پونے سات بجے یک بعد دیگرے ہوئے جس کی وجہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کارروائی مربوط انداز میں دہشت گردوں کی جانب سے کی گئی ہے۔
مقامی حکام کے مطابق ان دھماکوں میں ایک گاڑی اور ایک موٹر سائیکل استعمال کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکہ کے صدر بارک اوباما نے ان دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے اور بھارت کی حکومت کو دہشت گردوں تک پہنچنے میں تعاون کی پیش کش کی۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ان دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سرکاری سطح پر جاری کیے گئے ایک بیان نے دونوں رہنماؤں نے بھارت کے عوام اور حکومت سے ان دھماکوں میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔
دوسری طرف بم دھماکوں کی سائنسی بنیادوں پر تفتیش کے لیے جدید سامان سے لیس نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی اور بلاسٹ انوسٹی گیشن ونگ کی ٹیمیں ان دھماکوں کی تحقیقات کے لیے دلی سے ممبئی پہنچ چکی ہیں۔
ریاستی وزیراعلیٰ اور دیگر حکام نے ان دھماکوں میں کسی خاص گروہ کے ملوث ہونے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ دھماکوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنا پولیس کا کام ہے، ان کا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتی وزارت اطلاعات کے مطابق ریاستی وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ اب سے کچھ ہی دیر میں ان دھماکوں کے بارے میں پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔
دھماکوں کے بعد ان علاقوں میں افراتفری کا عالم تھا اور پولیس نے جائے وقوعہ کی ناکہ بندی کردی۔
ٹی وی چینلوں پر عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکوں کے بعد لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے اور انہوں نے کئی لوگوں کی لاشیں دیکھیں۔ مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی سکواڈ کی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر تفتیش کی ذمہ داری سونپ دی گئیں۔
ابھی تک کسی تنظیم نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
نئی دہلی میں وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ایک اعلی سطح کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی جس میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا کو بتایا گیا کہ نیشنل سکیورٹی گارڈ کو مکمل تیاری کی حالت میں رہنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔
دلی سے فارینسک ماہرین کی ٹیم فوری طور پر ممبئی روانہ کردی گئی۔ دھماکوں کے بعد تفتیش کی مہارت رکھنے والے این ایس جی کے ماہرین بھی ایک خصوصی طیارے میں دہلی سے ممبئی پہنچے۔
وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوان نے کہا کہ اوپرا ہاؤس کا دھماکہ کافی طاقتور تھا۔ لیکن باقی دو دھماکوں کو کم سے درمیانی شدت کا بتایا گیا ہے۔
لیکن پولیس کے مطابق فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ دھماکوں کے لیے کس طرح کا مواد استعمال کیا گیا تھا یا یہ کس کا کام ہے۔
زاویری بازار کو اس سے پہلے بھی تین مربتہ نشانہ بنایا جاچکا ہے جس میں کئی لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
وزیر داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ دھماکوں کے بارے میں تازہ ترین تفصیلات بتانے کے لیے ان کی وزارت کی طرف سے ہر دو گھنٹوں کے بعد بریفنگ کی جائے گی۔
اس سے پہلے ممبئی پر نومبر دو ہزار آٹھ میں حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک سو ساٹھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔





















