’عدالتی کمیشن کو دورۂ بھارت کی دعوت‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے شہر راولپنڈی میں ممبئی پر دہشت گرد حملوں کے مقدمے کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بھارتی حکومت کے خط کی نقل پیش کی ہے۔
اس خط میں بھارتی حکومت نے ان حملوں سے متعلق شواہد کی جانچ پڑتال کے لیے پاکستان کے مجوزہ عدالتی کمیشن کو بھارت کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔
اس مقدمے کی سماعت انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کر رہی ہے جو سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے اندر بند کمرے میں ہوتی ہے۔
سرکاری وکیل ذوالفقار چوہدری نے بی بی سی کے نامہ نگار احمد رضا کو بتایا کہ انہوں نے عدالت میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں عدالت سے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی گئی ہے جو بھارت میں موجود شواہد کی جانچ پڑتال کے لیے وہاں کا دورہ کر سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اس درخواست پر دلائل مکمل ہو چکے ہیں اور اسی سلسلے میں سنیچر کو میں نے عدالت میں ہندوستانی حکومت کا وہ خط پیش کیا جو ہمیں سفارتی ذرائع سے ملا ہے اور جس میں بھارت نے یقین دلایا ہے کہ بھارت پاکستانی عدالتی کمیشن کو مکمل سکیورٹی اور شواہد تک رسائی فراہم کرے گا۔‘
ذوالفقار قریشی نے بتایا کہ پاکستان کا مجوزہ عدالتی کمیشن ممبئی حملوں کے بعد واحد زندہ پکڑے جانے والے ملزم اجمل قصاب کا اقبالی بیان ریکارڈ کرنے والی خاتون جج کے علاوہ مقدمے کے چیف تفتیشی افسر، حملوں میں ہلاک ہونے والوں کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں اور ان حملوں کی تحقیقات کرنے والی بھارتی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے بیانات قلمبند کرے گا تاکہ ان حملوں کے پاکستان میں گرفتار ملزمان کو سزا دلانے میں استغاثہ کو مدد مل سکے۔
سرکاری وکیل کے مطابق سنیچر کو درخواست پر دلائل مکمل ہوگئے ہیں تاہم عدالت نے استغاثہ کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزمان کے وکلاء کو ان شواہد یا دستاویزات کی مصدقہ نقول فراہم کریں جو انہیں بھارت سے ملی ہیں جن میں حملوں میں مرنے والوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹس اور بھارت پولیس کے ریکوریز میمو شامل ہیں۔
ذوالفقار قریشی نے بتایا کہ اس کے لیے انہوں نے عدالت سے وقت مانگا جس پر عدالت نے مقدمے کی سماعت گیارہ جون تک ملتوی کردی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ممبئی حملوں کے پانچ ملزمان پاکستان میں گرفتار ہیں جن پر ان حملوں کی منصوبہ بندی، انتظامات اور مالی مدد کا الزام ہے جبکہ بھارت میں واحد زندہ پکڑے جانے والے ملزم اجمل قصاب کو پہلے ہی بھارتی عدالت سزائے موت سنا چکی ہے۔
پاکستان اور بھارت نے اس سال تیس مارچ کو نئی دلی میں داخلہ سیکرٹری کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ دونوں ملک ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف تفتیش کو آگے بڑھانے کی غرض سے اپنے اپنے عدالتی کمیشن بنائیں گے جو ایک دوسرے کے ملکوں کا دورہ کریں گے۔





















