ممبئی دھماکوں میں انڈین مجاہدین کا ہاتھ؟

،تصویر کا ذریعہap
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
ممبئی بم دھماکوں کے تیسرے دن بھی تفتیش میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی لیکن اخبارات اور ٹی وی چینلوں سے تاثر ملتا ہے کہ شک کے دائرے میں شدت پسند تنظیم انڈین مجاہدین سر فہرست ہے۔
انڈین مجاہدین ماضی میں بھی اس طرح کے حملوں کی ذمہ داریاں قبول کر چکی ہے۔
اگرچہ حکومت اور پولیس کی جانب سے ہونے والی بریفنگز میں کسی تنظیم کا نام نہیں لیا گیا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فی الحال ایسے شواہد نہیں ملے ہیں جن کی بنیاد پر کسی تنظیم کی طرف انگلی اٹھائی جاسکے، لیکن اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں صرف انڈین مجاہدین کا ہی ذکر چھایا ہوا ہے۔
یہ خبریں دھماکوں کی تفتیش کرنے والی ایجنسیوں سے وابستہ ’ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دی جارہی ہیں جن کی شناخت خفیہ رکھی گئی ہے۔
بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق انڈین مجاہدین کو لشکر طیبہ کی سرپرستی حاصل ہے اور اس کے سرکردہ رہنماؤں نے پاکستان میں پناہ لے رکھی ہے۔
ان رپورٹوں کے مطابق تفتیش کار جن تنظیموں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ان میں انڈین مجاہدین سرفہرست ہے کیونکہ دھاکوں کے لیے جو مواد استعمال کیا گیا تھا، وہ انڈین مجاہدین نے پہلے بھی استعمال کیا ہے۔ اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس یہ اطلاعات بھی تھیں کہ تنظیم دوبارہ سے سرگرم ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ کسی نئے ’ماڈیول‘ کا کام ہوسکتا ہے جس نے خود کو اچھی طرح منظم کر لیا ہے اور ’اس کے انڈین مجاہدین سے روابط ہوسکتے ہیں۔‘
ہندوستان ٹائمز نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ شواہد انڈین مجاہدین کی طرف ہی اشارہ کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اخبار کا کہنا ہے ’دھماکوں کے لیے موبائل فون ٹائمر کے طور پر استعمال کیے گئے تھے۔ ہندو شدت پسندون نے بھی حیدرآباد کی مکہ مسجد اور اجمیر شریف کے دھماکوں کے لیے موبائل فون استعمال کیے تھے لیکن ذرائع کے مطابق یہ تفتیش کاروں کو گمراہ کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔‘
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق’تفتیش کاروں کے خیال میں ممبئی کے دھماکوں سے انڈین مجاہدین کا تعلق اتنا واضح ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جس کی وجہ سے دلی پولیس بھی پریشان ہے کیونکہ اس گروہ کے کارکن یوم آزادی کی تقریبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘
انڈین مجاہدین نسبتاً ایک نیا گروہ ہے جو جولائی دو ہزار آٹھ میں منظرعام پر آیا تھا جب احمدآباد میں انیس بم دھماکوں میں ستاون افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس گروہ کے بارے میں اب بھی زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں لیکن پولیس کا خیال ہے کہ یہ ممنوعہ تنظیم سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا کے کچھ کارکنوں نے بنائی تھی۔
پولیس نے ماضی میں گروہ سے وابستگی کے الزام میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے کئی ماہرین کو گرفتار بھی کیا ہے اور ملک میں گزشتہ تین برس میں ہونے والے کئی بم حملوں کے لیے اس تنظیم کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
لیکن تمام اخبارات اور سکیورٹی کے ماہرین نے حکومت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلی جنس کی ناکامی کا کوئی جواز نہیں ہے اور ممبئی میں دو ہزار آٹھ کے حملوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔





















