ممبئی دھماکے: فوٹیج کا کا معائنہ شروع

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارتی میڈیا کےمطابق تحقیقات کاروں نے یہ تعین کرنے کے لیے کہ بدھ کو ممبئی میں ہونے والے دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، سکیورٹی کیمروں سے حاصل شدہ فوٹیج کا معائنہ شروع کر دیا ہے۔
ایک تحقیقات کار نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ابتدائی طور دھماکے کے ایک مقام سے جو فوٹیج ملا ہے اسے دیکھنے سے ظاہر ہوا ہے کہ وہاں موجود کچھ افراد کا طرزِ عمل مشکوک تھا۔ لیکن اس کا کہنا تھا کہ ان کے واردات میں ملوث ہونے کے بارے میں ان سے تفتیش کے بغیر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
ان دھماکوں میں اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ بدھ کو ہونے والے دھماکے سنہ دو ہزار آٹھ کے بعد ہونے والے دھماکوں کے بعد سب سے شدید دھماکے ہیں۔ ممبئی پر ہونے والے تین روزہ حملوں اوردھماکوں میں ایک سو پینسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
وزیرِ داخلہ پی چدام برم کا کہنا ہے کہ بدھ کو ہونے والے دھماکے کسی چھوٹے گروپ کی کارروائی ہو سکتے ہیں جنھوں نے بہت چھپتے چھپاتے یہ کام کیا ہے۔
ابھی تک کسی گروپ نے ان بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن کچھ اہلکار اور تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ یہ کام انڈین مجاہدین نامی گروپ کا ہے جس نے ماضی میں بھی اسی طرح کی کارروائیاں کی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سکیورٹی کیمروں سے حاصل شدہ فوٹیج کا تجزیہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ وہ ان مقامات سے جہاں دھماکے ہوئے، اہم شواہد حاصل کر لیں گے۔
بدھ کو سب سے بڑا دھماکہہ شہر کے جنوب میں اوپرا ہاؤس میں ہوا۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ہیروں کی تجارت ہوتی ہے۔ایک اہلکار کا کہنا تھا ’وہاں کیمرے میں کچھ ایسے افراد دکھائی دیے ہیں جن کی حرکتیں مشکوک ہیں۔ لیکن جب تک ہم ان سے پوچھ گچھ نہیں کرتے یا ان کے بیانات ریکارڈ نہیں کرتے، ہم ان کی شمولیت کے بارے میں کچھپ نہیں کہہ سکتے۔‘

















