اڈوانی کا سیاسی زندگی میں آخری پانسہ

اڈوانی بی جے پی کے سب سے قدآور رہنماء تھے۔
،تصویر کا کیپشناڈوانی بی جے پی کے سب سے قدآور رہنماء تھے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنماء لال کرشن اڈوانی نے تراسی برس کی عمر میں ایک نئی یاترا ضرور شروع کی ہے لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا سیاسی سفر پہلے ہی ختم ہوچکا ہے۔

اڈوانی اس سے پہلے بھی تقریباً آدھا درجن یاترائیں کر چکے ہیں۔ اس طویل سفر کا آغاز انیس سو نواسی میں سومناتھ سے اجودھیا تک کی اس بدنام زمانہ رتھ یاتر سے ہوا تھا جس سے ملک میں مذہبی منافرت کی لہر دوڑ گئی تھی۔

اس وقت رام جنم بھومی کی تحریک عروج پر تھی اور اڈوانی بی جے پی کے سب سے قدآور رہنماء تھے۔ لالو پرساد یادِو اس وقت بہار کے وزیر اعلٰی تھے اور انہوں نے یاترا کے بہار میں داخل ہوتے ہی اڈوانی کو گرفتار کر لیا تھا۔

سومناتھ سے اجودھیا کی یاترا نے بی جے پی کو ایک دہائی کے اندر دلی میں اقتدار تک پہنچایا۔ لیکن اس سفر کے دوران بابری مسجد مسمار کی گئی اور اس کے بعد ہزاروں مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا۔ ملک کے سماجی اور سیکولر تانے بانے کو بے پناہ نقصان پہنچا اور نوے کی دہائی کے واقعات اڈوانی کی پہچان بن گئے۔

اڈوانی نے پارٹی کو اقتدار تک تو پہنچایا لیکن اسی پہچان کی وجہ سے وزیر اعظم کی کرسی ان کی گرفت سے دور رہ گئی۔ دو ہزار نو کے انتخابات میں انہیں وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان کی قیادت میں بی جے پی کو شکست فاش ہوئی اور ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس نے (جس کے ہاتھ میں بی جے پی کی لگام رہتی ہے) اڈوانی کو سرگرم سیاست سے دست بردار ہونے پر مجبور کردیا۔

انہیں ایک بزرگ رہنماء کی ذمہ داری دی گئی اور پارٹی کی قیادت اگلی نسل کو سونپ دی گئی۔

’جن چیتنا‘ یا عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لیے اڈوانی کی اس تازہ ترین یاترا کا یہ پس منظر ہے۔ وہ اب بظاہر ملک میں بدعنوانی کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے لیے میدان میں اترے ہیں، لیکن اس بات پر کم ہی لوگ یقین کر رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق ان کی یاترا کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہ اپنا دیرینہ خواب پورا کرنا چاہتے ہیں۔ اور ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اب بہت دیر ہوچکی ہے۔

اب سشما سوراج، ارون جیٹلی اور نریندر مودی کی شکل میں کم سے کم تین رہنماء بھی یہی خواب دیکھ رہے اور اڈوانی کے دوبارہ سرگرم ہونے کے فیصلے سے خود بی جے پی کے اندر اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔

اسی وجہ سے بی جے پی نے آئندہ پارلیمانی انتخابات سے پہلے کسی بھی رہنماء کو وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار کے طور پر پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لال کرشن اڈوانی اپنی سیاسی زندگی کا آخری پانسہ پھینک رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنلال کرشن اڈوانی اپنی سیاسی زندگی کا آخری پانسہ پھینک رہے ہیں۔

ابھی پارلیمانی انتخابات میں ڈھائی سال باقی ہیں لیکن کانگریس کی قیادت والی وفاقی حکومت بدعنوانی کے کئی بڑے گھپلوں میں گھری ہوئی ہے۔ اور سماجی کارکن انا ہزارے کی تحریک سے نمٹنے کے لیے اس نے جو حکمت عملی اختیار کی تھی، اس سے بھی پارٹی کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا ہے اور اس سیاسی عدم استحکام میں وسط مدتی انتخابات کا ذکر شروع ہوگیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اڈوانی کے علاوہ شاید سب کو اس بات کا علم ہے کہ اب وہ وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔ لیکن جب انہوں نے اچانک اپنے منصوبے کا اعلان کیا تو پارٹی کی اعلٰی قیادت کے پاس اس کی حمایت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

اس یاترا کے بارے میں بنیادی طور پر دو تین سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ اگر اس کا مقصد بدعنوانی کے خلاف بیداری پیدا کرنا ہے تو انا ہزارے کی تحریک کی وجہ سے یہ بیداری پہلے سے موجود ہے۔

اور انا ہزارے کی تحریک میں جس تعداد میں لوگوں نے شرکت کی، وہ اس بات کی مظہر ہے کم سے کم اس کام کے لیے کسی یاترا کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن دوسرا زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ بدعنوانی کے مسئلہ پر بی جے پی کو وعظ کرنے کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔ اس کی اپنی ریاستی حکومتوں اور کئی سرکردہ رہنماؤں کو بدعنوانی کے سنگین الزامات کا سامنا رہا ہے۔

تو پھر اڈوانی کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ بار بار پوچھے جانے کے باوجود انہوں نے صاف طور پر یہ کہنے سے گریز کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نہیں ہیں۔

ایک سینئر صحافی اور مبصر نے ان کا موازنہ عہد رفتہ کے عظیم فلم سٹار دیو آنند سے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیو آنند کبھی بے حد مقبول تھے، لوگ ان کی فلموں کا بےتابی سے انتظار کرتے تھے اور ان کی فلم اگر ناکام ہوجاتی تھی تو اسے اپنا ذاتی نقصان مانتے تھے۔

لیکن یہ چالیس پچاس سال پہلے کی بات تھی۔ اب وقت بدل گیا ہے۔ دیو آنند اب بھی فلمیں بناتے ہیں۔ پروڈیوسر اور ہدایت کار بھی خود اور اداکار بھی، لیکن ان کی فلم کب آتی ہے اور کب فلاپ ہوجاتی ہے کسی کو خبر نہیں ہوتی۔

اڈوانی اپنی اڑتیس روزہ یاترا کے دوران کئی ایسی ریاستوں سے گزریں گے جہاں اسمبلیوں کے انتخابات ہونے والے ہیں۔اس فلم کی ناکامی کا خود ان کی صحت پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

اگر اڈاونی کی پچھلی کئی یاتراؤں کی طرح یہ یاترا بھی ناکام ہوجاتی ہے تو پارٹی کو بھاری سیاسی نقصان اٹھانا پڑے گا کیونکہ گزشتہ کچھ مہینوں میں پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے اور اسے یہ محسوس ہونا شروع ہوا ہے کہ دس سال کے بعد وہ دوبارہ اقتدار حاصل کر سکتی ہے۔

لیکن اگر یاترا کامیاب ہوجاتی ہے تو اڈوانی خود کو قومی سیاست میں دوبارہ سے ایک اہم ’پلیئر‘ کے طور پر پیش کرسکیں گے اور اگلے انتخابات سے پہلے پارٹی میں قیادت کی لڑائی اور تیز ہوجائے گی۔

اس یاترا سے حکمراں کانگریس کم اور خود بی جے پی زیادہ پریشان ہوگی۔ لال کرشن اڈوانی اپنی سیاسی زندگی کا آخری پانسہ پھینک رہے ہیں، لیکن داؤ پر اور جو کچھ بھی ہوا شاید وزیر اعظم کی کرسی نہیں ہے۔