اڈوانی پر جناح کا سایہ

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
بھارتیہ جنتا پارٹی کا سفینہ بھنور میں ہے اور بانی پاکستان محمد علی جناح کی کتاب سے بھڑکنے والی بغاوت کے بعد جس طرح لال کرشن اڈوانی کو نشانہ بنایا گیا ہے، لگتا ہے کہ بی جے پی کے ’مرد آہن‘ کا سیاسی سفر اب اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔
یہ ایک حیرت انگیز سفر تھا جو تقسیم ہند سے پہلے جناح کی جائے پیدائش کراچی سے شروع ہوا جہاں اڈوانی ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کے ’پرچارک‘ تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سفر میں جب جب اہم موڑ آئے تو جناح کا سایہ بھی نظر آیا۔
اپنی طویل سیاسی زندگی کے دو ہوائی سفر شاید اڈوانی کو ہمیشہ یاد رہیں گے۔ان میں سے ایک کو وہ بھول نہیں سکتے اور دوسرے کو شاید چاہ کر بھی اب بھلا نہیں سکتے۔
پہلا سفر انہوں نے تقسیم ہند کے بعد ستمبر انیس سو سینتالیس میں کیا۔ کراچی کے ایک پر تعیش علاقے میں بم دھماکہ ہوا تھا۔ پولیس نے آر ایس ایس میں اڈوانی کے اٹھارہ ساتھیوں کو جب اس شبے میں گرفتار کیا تو اس خطرے کے پیش نظر کہ وہ بھی گرفت میں آسکتے ہیں، اڈوانی ہوائی جہاز میں بیٹھے اور اپنا وطن ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر دلی آگئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سرحد کی دونوں جانب سے لوگوں کی ہجرت اور قتل و غارت کا سلسلہ پوری شدت سے جاری تھا۔
اسی دور کی ایک دلچسپ کہانی آج تک گردش کرتی ہے لیکن اس کی کبھی تصدیق نہیں ہوسکی۔ مشہور زمانہ مصنف ڈامینیک لیپئر نے اپنی کتاب فریڈم ایٹ مڈنائٹ میں بھی اس کا ذکر کیا تھا۔ تقسیم کے بعد جناح کے استقبال کے لیے کراچی میں ایک بڑا جلوس نکالنے کا پروگرام تھا جس میں بانی پاکستان ایک کھلی گاڑی میں سفر کرنے والے تھے۔
لیکن انٹیلی جنس کی اطلاعات یہ تھیں کہ دو قومی نظریہ کے مخالف کچھ لوگ اسی جلوس کے دوران انہیں قتل کرنے کی سازش رچ رہے تھے۔ یہ منصوبہ تو کامیاب نہیں ہوا لیکن کہا جاتا ہے کہ اس مبینہ سازش کے سلسلے میں کراچی کے ایک تھانے میں(دس ستمبر انیس سو سینتالیس کو؟) ایک مقدمہ درج ہوا تھا جس میں اڈوانی کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔
اڈوانی نے اپنی خود نوشت’مائی کنٹری مائی لائف‘ میں لکھا ہے کہ وہ بم دھماکے کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لیے بارہ ستمبر انیس سو سینتالیس کو چھ گھنٹے کا ہوائی سفر طے کرکے ہندوستان آئے تھے۔

ہندوستان میں اگرچہ کافی مرتبہ یہ سوال اٹھایا گیا، اور پاکستان ذارئع ابلاغ میں بھی اس بارے میں دعوے کیے گیے، لیکن یہ کبھی ثابت نہیں ہوسکا کہ آیا جناح کو قتل کرنے کی سازش میں انہیں نامزد کیا گیا تھا یا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہندوستان آنے کے بعد اڈوانی کا سفر انہیں راجستھان لے گیا جہاں وہ آر ایس ایس کے پرچارک کے طور پر کام کرتے رہے۔ اسی دوران انیس سو اکیاون میں ہندو مہاسبھا کے لیڈر شیاما پرساد موکرجی نے آرایس ایس کی قیادت سے صلاح مشورے کے بعد ایک سیاسی جماعت ’بھارتیہ جن سنگھ‘ تشکیل دی اور اڈوانی کو راجستھان میں اس کی جڑیں مضبوط کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
جن سنگھ نے ہی بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکل اختیار کی۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور اڈوانی کا سیاسی سفر در اصل بی جے پی کا ہی سفر تھا لیکن سن دو ہزار پانچ میں جب اڈوانی نے کراچی میں جناح کے مزار پر حاضری دیتے ہوئے بانی پاکستان کو سیکولر اور قیام پاکستان کو ایک حقیقت کہہ کر تسلیم کیا تو آر ایس ایس سے ان کے تقریباً ساٹھ سالہ رشتے میں دراڑ پڑ گئی۔
اڈوانی کو بی جے پی کی صدارت سے مستعفی ہونا پڑا۔
جب بھی اڈوانی کی سیاسی زندگی پر نظر ڈالی جائے گی تو ان کی سومناتھ سے اجودھیا کی رتھ یاترا، بابری مسجد اور گودھرا کا ذکر ضرور آئے گا۔ بابری مسجد کی مسماری کے سلسلے میں اب بھی ان کے خلاف مقدمات کی سماعت جاری ہے جبکہ گجرات فسادات کے دوران وہ وفاقی وزیر داخلہ تھے اور بہت سے مبصرین یہ مانتے ہیں کہ ہزاروں لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے انہیں جو کرنا چاہیے تھا وہ انہوں نے نہیں کیا۔
اڈوانی نے اپنی انتظامی صلاحیتوں سے بی جے کی اقتدار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن نہ کبھی بی جے پی صرف اپنے دم پر اقتدار میں آسکی اور نہ کبھی اڈوانی ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھر سکے جو اعتدال پسند اتحادی جماعتوں کو لیڈر کی حیثیت سے قبول ہو۔ اسی لیے وہ وزیر اعظم بننے کا خواب پورا نہیں کرسکے۔
مارچ کے پارلیمانی انتخابات کے بعد اڈوانی نے سرگرم سیاست سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا لیکن پارٹی میں اقتدار کی جنگ چھڑ جانے کے بعد انہیں روک لیا گیا۔
لیکن اب جب سے جناح پر سابق وزیر خارجہ اور بی جے پی کے سینئر رہنما جسونت سنگھ کی کتاب منظر عام پر آئی ہے، اڈوانی کی مشکلات دن بہ دن بڑھتی جارہی ہیں۔
اور ان کی مشکلات کی وجہ وہ دوسرا ہوائی سفر ہے جس میں خود موجود بھی نہیں تھے۔
بی جے پی میں بغاوت کا پرچم بلند ہے اور تین سرکردہ رہنماؤں نے اڈوانی کے اس دعوے کو غلط قرار دیا ہے کہ انہیں ایک ہندوستانی طیارے کے اغوا کے بعد جسونت سنگھ کے قندھار جانے کا علم نہیں تھا۔(ہندوستان نے مولانا مسعود اظہر سمیت تین شدت پسندوں کو رہا کیا تھا اور جسونت سنگھ اسی طیارے میں قندہار گئے تھے)
اب ایک طرف اڈوانی ہیں اور دوسری طرف کمیٹی کے تین ارکان۔ (برجیش مشرا، یشونت سنہا اور جسونت سنگھ)۔ اور دونوں میں سے صرف ایک سچ بول رہا ہے۔
سچ کا سامنا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اڈوانی کے سامنے دو راستے ہیں: وہ اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے پارٹی میں قیادت کی تبدیلی تک اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں یا پھر خاموشی سے استعفی دیکر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرسکتے۔
وہ جو بھی راستہ اختیار کریں اب یہ بات طےمانی جارہی ہےکہ ان کا سیاسی سفر اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ اور جناح کا سایہ ایک مرتبہ پھر نظر آرہا ہے۔
پہلے جناح کی تعریف انہیں راس نہیں آئی اور اب جناح پر جسونت سنگھ کی کتاب!






















